حزب اللہ کا اسرائیل کے ساتھ سرحد پر جھڑپ میں اپنے 6 جنگجوؤں کی ہلاکت کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنانی حزب اللہ نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز اسرائیل کے ساتھ سرحد پر جھڑپ میں اس کے 6 جنگجو مارے گئے، جس سے سرحدی علاقے میں دو ہفتوں سے جاری تشدد کے دوران ہلاک ہونے والے اس کے ارکان کی تعداد 19 ہو گئی ہے۔

لبنان کے ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ ان جنگجوؤں میں سے ایک لبنانی حولا علاقے میں مارا گیا جو کہ اسرائیلی مارگیلیوٹ علاقے کے بالمقابل واقع ہے، جس کے بارے میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ٹینک شکن میزائل حملہ کیا تھا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے جوابی فائرنگ کی۔

بعد ازاں حزب اللہ نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ باقی پانچ ہفتے کے روز مارے گئے۔ اسرائیل نے کہا کہ اس کے فوجیوں نے ایک سیل پر بمباری کی جو مارگلیوٹ سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اسرائیلی قصبے شلومی کے علاقے کی طرف ٹینک شکن میزائل داغنے کی کوشش کر رہا تھا۔

فلسطینی اسلامی جہاد تحریک جو جنوبی لبنان میں بھی بھی سرگرم ہے نے کہا کہ اس کا ایک رکن بھی مارا گیا۔

7 اکتوبر کو حماس کے پرتشدد حملے کے بعد سے حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان سرحد پر تقریباً روزانہ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے، جب کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر شدید فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان 2006 کی جنگ کے بعد اسرائیل-لبنانی سرحد پر تشدد میں یہ بدترین اضافہ ہے۔

قبل ازیں ذرائع نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے حملوں کا مقصد صرف اسرائیلی فوج کو مصروف رکھنا ہے، وہ کسی بڑی جنگ میں نہیں پڑنا چاہتی۔ اسرائیل نے کہا کہ جنگ میں جانا اس کے مفاد میں نہیں ہے اور اگر حزب اللہ نے مداخلت نہیں کی تو وہ سرحد پر جمود کو برقرار رکھے گا۔

لیکن غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں اور اس سے آگے ایک وسیع تر تنازعے کے پھوٹ پڑنے کے خدشات کا باعث بن رہی ہے، کیونکہ اسرائیل غزہ میں متوقع زمینی دراندازی کی تیاری کر رہا ہے۔

لبنانی حولا کے علاقے کے اطراف میں واقع سرحدی علاقوں میں حال ہی میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے کئی واقعات دیکھنے میں آئے، جس سے چند روز قبل اسرائیل کو قریبی قصبے کریات شمونہ کو خالی کرنے پر مجبور کیا تھا۔

اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے ہفتے کے روز کہا کہ کریات شمونہ کے رہائشیوں کے انخلاء سے فوج کو حماس کی اتحادی حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کا موقع ملے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں