غزہ میں سرنگوں کی بھول بھلیوں کے چیلنج سے نمٹنے کےلیےاسرائیل کےپاس کیا جنگی منصوبہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ وہ حماس تحریک کا "زمین کے اوپر اور نیچے" ہر جگہ مقابلہ کرے گی۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی وقت غزہ کی پٹی پر زمینی حملہ شروع کر دے گی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے زمینی جنگ کے لیے ضروری اقدامات تیار کر لیے ہیں، لیکن اس کے لیے سب سے بڑا چیلنج غزہ کی سرنگوں کا سامنا ہے۔

حماس جو پوری پٹی کو کنٹرول کرتی ہے نے سرنگوں کا ایک نیٹ ورک بنا رکھا ہے جو اس کے عسکریت پسندوں کو گولہ بارود ذخیرہ کرنے اور حملہ آور افواج پر اچانک حملے کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

"غزہ میٹرو" کہلانے والی سرنگیں حماس کے عسکریت پسندوں کو اس تحریک کے ہر رکن کو ختم کرنے کے لیے پرعزم اسرائیلی فورسز سے سراغ لگانے اور فرار ہونے کا راستہ بھی دے سکتی ہیں۔

برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق زمین پر امکان ہے کہ اسرائیلی افواج سرنگوں کا سامنا کرنے کے لیے ایک خاص حربہ اپنائے گی۔

اس تکنیک کے تحت اسرائیلی فوج ایک گھر سے دوسرے گھر تک پہنچنے کے دوران ’مرکاوا ٹینک‘ اور بکتر بند بلڈوزر تعینات کرے گی۔

ریموٹ کنٹرولز

سرنگ مخالف حکمت عملیوں میں اسرائیلی فوج ریموٹ کنٹرول ڈیوائسزاور ایک خود کارٹیکنالوجی کا استعمال کر سکتی ہے۔ زیر زمین سرنگوں کا نقشہ بنانے اور ان کا مطالعہ کرنے، فوجیوں کو انہیں ہٹانے کا حکم دینے سے پہلے، گھات لگانے اور بوبی ٹریپس سے بچنے کی کوشش کی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ریمورٹ کنٹرول ڈیوائسز کا استعمال کیا جائے گا۔

بنکر شکن گائیڈڈ بم

اسرائیل حماس کی سرنگوں کو نشانہ بنانے کے لیے ممکنہ طور پر امریکی فراہم کردہ لیزر گائیڈڈ بموں کا بھی استعمال کرے گا جو 100 فٹ زیر زمین اور 20 فٹ کنکریٹ تک گھس سکتے ہیں۔

اسرائیلی مرکاوا ٹینک

مرکاوا ٹینک جو خاص طور پر شہری علاقوں میں لڑائی کے لیے بنائے گئے ہیں بھی استعمال کیے جائیں گے۔ یہ اسرائیلی افواج کو پیش قدمی کے لیے فائر سپورٹ فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے، کیونکہ وہ ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے "تصادم کے پنجروں" سے لیس ہوں گے۔

اسرائیلی فوجیوں کو گلی گلی لڑنے کا خطرناک مشن سونپا جائے گا کیونکہ وہ حماس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

"زمین کے اوپر اور نیچے"

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ وہ "زمین کے اوپر اور نیچے" حماس کا مقابلہ کرے گی۔ غزہ میں زمینی دراندازی کی تیاریوں اور سرنگوں کو نشانہ بنانے کے اسرائیل کے ارادے کے حوالے سے اس پر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

دریں اثنا، حماس کا کہنا ہے کہ اس کا سرنگوں اور زیر زمین انفراسٹرکچر کا نیٹ ورک تقریباً 300 میل یا تقریباً 482 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، جو لندن کے زیر زمین میٹرو نیٹ ورک سے زیادہ لمبا ہے۔

غزہ میں کھودی گئی سرنگوں کا استعمال اصل میں اسرائیلی ناکہ بندی کو روکنے کے لیے مصر اور اس سے سامان سمگل کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ لیکن فلسطینی کارکنوں نے راکٹوں اور راکٹ لانچروں کی نقل و حمل، اپنے جنگجوؤں کو اسرائیلی سیٹلائٹ اور طیاروں کی نگرانی سے بچانے کے لیے دوسری سرنگیں بنائی تھیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل کی سرزمین کے اندر حملہ کرنے کے لیے بھی سرنگیں بنائی گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے بارہا غزہ کی پٹی پر زمینی حملے کی مکمل منصوبہ بندی کا اعلان کیا ہے، جب کہ محصور پٹی پر گذشتہ سولہ دن سے مسلسل بمباری جاری ہے۔ اس بمباری میں اب تک پانچ ہزار کے لگ بھک فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر بچے اور عورتیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں