غزہ کی مصیبت زدہ ماؤں کا تمسخر اڑاتی اسرائیلی عورتیں جو نفرت کی علامت بن رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اس وقت اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی مسلط کی گئی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 1500 سے زاید معصوم بچےمارے جا چکے ہیں تو دوسری طرف فلسطینی بچوں کے قتل عام پرصہیونیوں میں پائی جانے والی نفرت کا سوشل میڈیا پر واضح طور پر اظہار کیا جا رہا ہے۔

بچوں کو کھو دینے والی فلسطینی ماؤں کی مصیبت میں اسرائیلی عورتوں کی طرف سے فلسطینی عورتوں کا روپ دھار کران کا تمسخر اڑانے کی مکروہ اور اشتعال انگیز حرکات کی جا رہی ہیں۔

اسرائیلی عورتوں کی تمسخر آمیز ویڈیو کے منظرعام پرآنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف غزہ میں سیکڑوں خاندان اسرائیلی بمباری میں مارے جا چکے ہیں اور ہر گھر میں صدمہ ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی عورتوں کی طرف سے بے بس فلسطینیوں کا مذاق اڑانا اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی بچوں کے قتل عام پراسرائیلیوں میں کوئی انسانی ہمدردی نہیں۔

ان ویڈیوز میں اسرائیلی عورتیں مصیبت زدہ غزہ کی ماؤں کا تمسخر اڑاتے ہوئے ان کی مصائب پر شک کرتی نظر آئیں۔ ایک خاتون نے کہا کہ تمہیں عمل کرنا سکھاؤں گی۔ آپ اپنے چہروں پر تھوڑا سا کیچپ لگا سکتے ہیں اور پھر کچھ پاؤڈر یا آٹا ڈال کر یہ بتا سکتے ہیں کہ آپ راکھ اور ملبے کے نیچے سے نکلے ہیں"۔

تاہم ان کلپس نے فوری طور پر فلسطینیوں میں غصے کی لہر کو جنم دیا اور فلسطینی ماؤں کے المیوں اور درد کو کم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر تنقید سامنے آئی ہے۔

بہت سے فلسطینیوں نے غزہ سے دستاویزی تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ اس ان "مضحکہ خیز" ویڈیوز کا دیتے ہوئے تباہی کے حقیقی مناظر دکھا کر انہیں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ غزہ میں کیا ہو رہا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی ایک مختلف نوعیت کی جنگ چھڑ گئی ہے جس میں بعض اوقات جعلی ویڈیوز اور جھوٹی خبریں شائع کرنے کا رجحان ہوتا ہے جو ہر فریق کے نقطہ نظر کی تائید کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں