اسرائیلی بم حملے نے فلسطینی صحافی معتز عزیزہ کے خاندان کے پرخچے اڑا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں ہر لمحے میں ایک نیا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے کیونکہ محاصرہ زدہ علاقے میں اسرائیلی فوج مسلسل بمباری کر رہی ہے۔

غزہ کے ہر گھر میں ماتم اور صدمے کی کیفیت ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کے ایک صحافی کے خاندان کو بھی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

غزہ کے صحافی معتز عزیزہ نے اپنےانسٹا گرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں اسے دو بچوں زخمی حالت میں دکھایا گیا ہے۔

معتز نے ان بچوں کو اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والی جگہ سے اس وقت نکالا جب بمباری کے نتیجے میں ہر طرف گرد وغبار پھیل گیا تھا۔ اس دوران معتز نے دو بچوں کو زخمی حالت میں اس جگہ سے نکالا۔

خوفناک کہانیاں

تصویر سے زیادہ سچی کوئی چیز نہیں، جس کی خوفناک کہانیاں صحافی معتز عزیز انسٹاگرام اور دیگر سماجی رابطوں کی سائٹس پر اپنے ذاتی اکاؤنٹس کے ذریعے نشر کر رہے ہیں۔

فلسطین میں ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے ساتھ نوجوان رضاکار کی طرف سے منتقل کی گئی یہ تصویر اس مصائب کی بھی عکاسی کرتی ہے جس کا نشانہ غزہ میں شہری دو ہفتوں سے زائد عرصے سے کر رہے ہیں۔

ٹھیک چند گھنٹے قبل نوجوان نے اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بننے والے بچوں کی جانیں بچانے کے لیے بھاگتے ہوئے اپنی ایک ویڈیو کلپ پوسٹ کی تھی۔ وہ بمباری کی دھول سے بھر جانے کے بعد دو بچوں کے ساتھ نمودار ہوا اور ان کے چہرے خون آلود تھے۔

معتز کو اپنے خاندان کے افراد کے اعضا ملے

قابل ذکر ہے کہ صحافی معتز عزیزہ ایک کیمرہ لے کر غزہ کی پٹی کے گرد گھومتے ہیں تاکہ اس جگہ پر ہونے والے ہولناک بمباری کو دستاویزی شکل دے سکیں۔

غزہ کی پٹی میں دیر البلح میں العزیزہ اسٹریٹ پر اس نوجوان کے گھر پر بمباری کی گئی جس سے اس کے خاندان کے کئی افراد مارے گئے۔

صحافی کو اپنے خاندان کے افراد کے جسموں کے ٹکڑے ملے

قابل ذکر ہے کہ غزہ دو ہفتوں سے زائد عرصے سے نہ رکنے والی اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے جس کی وجہ سے اسرائیلی حملوں سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 4,651 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 14,245 زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں