فلسطین اسرائیل تنازع

الشفاء اور القدس ہسپتالوں کے اطراف میں بمباری

غزہ کے تمام ہسپتالوں کو خالی کرنے کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب الاھلی ہسپتال کے قتل عام کے دوبارہ ہونے کے خدشات کے جلو میں غزہ کے تمام ہسپتالوں کو اسرائیل کی طرف سے ایک انتباہ موصول ہوا ہے کہ اگر انہیں خالی نہ کیا گیا تو وہ بغیر وقت ضائع کیے ان پر بمباری کر دیں گے۔

فلسطینی انفارمیشن سینٹر نے اتوار کی شام کو اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں الشفاء ہسپتال اورالقدس ہسپتال کے اطراف میں بمباری کی ہے۔

القدس ہسپتال کے آس پاس کا علاقہ جس میں سینکڑوں زخمی اور بیمار افراد اور تقریباً 12,000 بے گھر افراد اس کے صحن میں موجود ہیں، اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن گیا جب اسے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں تین بار انخلاء کی وارننگ موصول ہوئیں۔

وسطی غزہ میں الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے قریب بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق الشفاء میڈیکل کمپلیکس میں زخمیوں اور طبی عملے کی سب سے زیادہ تعداد شامل ہے۔

انخلاء کی ڈیڈ لائن نہیں بتائی گئی

فلسطینی ہلال احمر کے میڈیا افسر نیبال فرسخ نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے 25 ہسپتالوں کو خالی کرنے کے لیے کہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ہمارے لیے غزہ میں القدس ہسپتال کو خالی کرنے کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا۔

غزہ کے المعمدانی ہسپتال کے قتل عام کے دوبارہ ہونے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، جس پر گذشتہ منگل کو بمباری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں 500 فلسطینی مارے گئے تھے۔

بمباری کا سلسلہ جاری

قبل ازیں مرکزاطلاعات فلسطین نے رپورٹ دی تھی غزہ شہر اور شمالی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کا سلسلہ دو گھنٹے سے بغیر کسی وقفے کے جاری ہے۔

غزہ میں وزارت صحت نے اتوار کو اعلان کیا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے شہید ہونے والے شہریوں کی تعداد بڑھ کر 4,651 ہو گئی ہے اور 14,245 زخمی ہو گئے ہیں۔

وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے فیس بک پر کہا کہ مرنے والوں میں 1,873 بچے، 1,023 خواتین اور 187 بزرگ شامل ہیں، انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی بمباری میں مجموعی طور پر 40 فی صد بچے، 70 جب کہ کل شہداء میں 70 فی صد خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں