حزب اللہ 200,000 راکٹوں اور 100,000 جنگجوؤں سے مسلح ہے: اسرائیل میں مقیم تھنک ٹینک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تل ابیب میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز (آئی این ایس ایس) کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے پاس تقریباً 200,000 راکٹ اور 100,00 مسلح جنگجو ہیں۔

اسرائیل میں قائم آئی این ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کی ملیشیا افواج باقاعدہ فوجیوں اور محفوظ ارکان پر مشتمل ہیں اور ان کی تعداد اندازاً 50,000 سے 100,000 تک ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا، "اس کے وسیع ہتھیاروں میں تقریباً 150,000-200,000 راکٹ، مارٹر بم اور میزائل شامل ہیں جن میں سے سینکڑوں میزائل انتہائی درستگی کے حامل اور نہایت تباہ کن ہیں۔"

رپورٹ کے اندازوں کے مطابق حزب اللہ کے پاس تقریباً 40,000 گریڈ کی قسم کے راکٹ ہیں جن کی مختصر فاصلے کی صلاحیت 15-20 کلومیٹر ہے، تقریباً 80,000 درمیانے فاصلے کے راکٹ ہیں جو 100 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور تقریباً 30,000 راکٹ اور طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت والے میزائل ہیں جو 200-300 کلومیٹر تک جا سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں حزب اللہ کے پاس کئی سو فتح 110 پراجیکٹائل ہیں – مختصر فاصلے تک مار کرنے اور ٹھوس ایندھن سے چلنے والے بیلسٹک میزائل ہیں جو ایران نے تیار کیے ہیں۔ یہ "تقریبا 500 کلو گرام دھماکہ خیز مواد لے جاتے ہیں، بالکل درست جی پی ایس نیویگیشن میکانزم سے آراستہ اور خاصی درستگی اور تباہ کن صلاحیت کے حامل ہیں۔"

مزید برآں حزب اللہ "زمین سے فضا میں مار کرنے والے اعلیٰ معیار کے سی 802 میزائلوں سے آراستہ ہے جو چین میں بنائے گئے ہیں، اور روسی ساختہ یخونت؛ جدید ترین اور بہتر کردہ کورنیٹ ٹینک شکن میزائل جو مارٹر بموں کو لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؛ اور ایس اے-17 اور ایس اے-22 اقسام کے طیارہ شکن میزائل جو یو اے ویز اور ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔"

العربیہ تھنک ٹینک کی رپورٹ کے حقائق اور اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیل-لبنان سرحدوں پر کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اسرائیل نے لبنان کی سرزمین کے اندر حملے کیے ہیں جن کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے اہداف تھے کیونکہ ملیشیا بار بار سرحد پار فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف رہی ہے۔

حزب اللہ نے کہہ دیا تھا کہ گروپ کے حماس-اسرائیل تنازع سے باہر رہنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی مطالبات پر توجہ نہیں دی جائے گی۔ حزب اللہ کے ٹی وی المنار کے حوالے سے نائب سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ "عظیم طاقتوں، عرب ممالک، اقوام متحدہ کے سفراء کی طرف سے بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر ہم سے مداخلت نہ کرنے کے پسِ پردہ مطالبات کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ حزب اللہ اپنے فرائض سے بخوبی واقف ہے۔ ہم تیار ہیں اور پوری طرح تیار ہیں۔"

تل ابیب نے کہا ہے کہ حزب اللہ نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیلی فوجی ٹھکانوں اور اسرائیلی قصبوں پر درجنوں ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل، راکٹ اور گولے داغے ہیں جبکہ مسلح افراد کو اسرائیل میں دراندازی کے لیے بھیجا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ فوج کو ایرانی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے کسی بھی اقدام کے خلاف شمالی محاذ پر تیار رہنا چاہیے جو ان کے مطابق فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس سے "10 گنا زیادہ مضبوط" ہے۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع نے حکومت سے کہا کہ وہ شمالی محاذ یعنی لبنان کے ساتھ سرحدی علاقے میں فوجی ساز و سامان کی منتقلی کو حتمی شکل دے۔

مزید برآں، وائٹ ہاؤس نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ حزب اللہ اسرائیل-حماس جنگ میں حصہ لے سکتی ہے کیونکہ ملیشیا نے لبنان-اسرائیل سرحد پر اسرائیلی اہداف کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے کہا: "اس کے بارے میں کوئی سوال نہیں کہ وہ ایک طاقتور دہشت گرد گروپ ہیں۔ ہم انہیں گہری نظر سے دیکھتے ہیں۔ اسرائیلی انہیں گہری نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہم اس تنازعہ کو وسیع ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہم حزب اللہ کو اس قسم کا فیصلہ کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں