صدام حسین کی بیٹی کو عراقی عدالت نے سات سال قید کی سزا سنا دی

یہ سزا اپنے والد کی بعث پارٹی اور والد کے دور حکومت کی تعریف کرنے پر سنائی گئی۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراقی دارالحکومت بغداد کی عدالت نے صدام حسین کی جلاوطن بیٹی کو اس کی غیر حاضری میں سات سال کے لیے سزائے قید سنائی ہے۔ یہ سزا اپنے والد کی کالعدم جماعت بعث پارٹی کا چرچا کرنے کے جرم میں دی گئی ہے۔

عراقی بعث پارٹی کو 2003 میں امریکی حملے کے نتیجے میں صدام کا تحتہ الٹنے کے بعد کالعدم کر دیا گیا تھا۔ اب بھی بعث پارٹی کالعدم ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق راغد صدام حسین کو اس جرم میں ملوث پایا گیا ہے کہ وہ کالعدم بعث پارٹی کی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہتی تھیں۔ اس سلسلے میں 2021 کو راغد کے ٹی وی انٹرویوز کو بنیاد بنایا گیا ہے جو انہوں نے دیے تھے۔ انہی انٹرویوز کے دوران انہوں نے اپنے والد کی دور حکومت اور ان کی بعث پارٹی کی تعریف کی تھی۔

آج کے عراق میں معزول کردہ عراقی صدام رجیم کا کسی فرد کی طرف سے تصویروں میں ذکر کرنا، اس کے حق میں کوئی نعرہ بلند کرنا قابل سزا جرم ہے۔

تاہم بغداد میں عدالت نے صدام حسین کی بیٹی کو سزا سناتے ہوئے 2021 کے ان انٹرویوز کا کوئی متعین ذکر کیا ہے نہ حوالہ دیا ہے۔ جن کی بنیاد پر یہ سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

2021 میں صدام حسین کی بیٹی نے 'العربیہ ٹی وی ' کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ اس کے والد کے سخت گیری کے دور میں 1979 سے 2003 تک حالات اچھے تھے۔

'بہت سے لوگ مجھے بتاتے ہیں کہ ہمارا دور عروج اور فخر کا دور تھا، بلا شبہ ملک امیر اور مستحکم تھا۔ '

راغد حسین ان دنوں اردن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں ، ان کے ساتھ ان کی بہن رعنا بھی ہے۔ جبکہ ان کے بھائی اودے اور قصے کو 2003 کے دوران موصل میں امریکی فوج نے قتل کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں