غزہ پر زمینی حملہ تین ماہ جاری رہ سکتا، اس کے بعد حماس باقی نہیں رہے گی: گیلانٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر دفاع گیلانٹ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر متوقع زمینی حملہ 3 ماہ تک جاری رہ سکتا ہے لیکن اگر ان کا ملک حماس تحریک کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ حملہ آخری ہو گا۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق گیلانٹ نے اتوار کو تل ابیب میں اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈ سنٹر میں کہا کہ یہ زمینی حملہ غزہ میں آخری ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اس کے بعد کوئی حماس باقی نہیں رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں ایک مہینہ، دو مہینے، تین مہینے لگیں گے لیکن آخر میں کوئی جوش نہیں رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کو مسلح افواج اور پیادہ فوج سے پہلے فضائیہ کے بموں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی دباؤ

واضح رہے امریکی حکومت اسرائیل پر غزہ کی پٹی میں اپنی زمینی کارروائی کو ملتوی کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے تاکہ حماس کے زیر حراست قیدیوں کی رہائی پر بات چیت کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

ایک باخبر ذریعہ نے اطلاع دی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے اسرائیلی قیادت پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ یرغمالیوں کی آزادی کے محاذ پر ہونے والی پیشرفت کو ملتوی کردے۔ غزہ میں ضرورت کے مطابق امدادی ٹرک لانے کی اجازت دی جائے۔ ایک باخبر سفارت کار نے وضاحت کی ہے کہ مذاکرات میں غزہ میں امداد لانے کے بارے میں بات چیت ہوئی اور قیدیوں کو ہٹانے کے لیے عارضی جنگ بندی کی ضرورت پر بھی گفتگو کی گئی۔

بلومبرگ نے حکام کے حوالے سے کہا کہ اسرائیل نے امریکہ کو آگاہ کیا کہ وہ زمینی کارروائی شروع کرنے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرے گا۔ اسرائیل نے غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ خیال رہے 7 اکتوبر کو حماس نے غزہ کے اطراف کے علاقے میں اسرائیلی بستیوں پر حیران کن حملہ کردیا تھا۔

اس جنگ کو 16 روز گزر گئے ہیں۔ اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 4651 افراد جاں بحق ہوگئے۔ شہدا میں 1873 بچے، 1023 خواتین اور 187 معمر افراد بھی شامل ہیں۔ 14 ہزار 245 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری طرف 1400 اسرائیلی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں