فلسطین اسرائیل تنازع

فضائی حملوں کے جلو میں غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل نے غزہ میں سینکڑوں اہداف پر فضائی حملے پیر کے روز بھی جاری رکھے جبکہ محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی میں برسرپیکار حماس کے مزاحمت کاروں سے اسرائیلی فوجیوں کی معرکہ آرائی کی بھی اطلاعات ہیں۔ غزہ کی پٹی کی مخدوش صورت حال اور مسلسل اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق غزہ کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید 182 بچوں سمیت 436 فلسطینی جان سے چلے گئے۔

وزارت صحت کے بیان کے مطابق سات اکتوبر سے غزہ پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں پانچ ہزار 87 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی حملوں میں جان سے جانے والوں میں دو ہزار 55 بچے اور 11 سو 19 خواتین بھی شامل ہیں۔ جبکہ ان حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 15 ہزار 273 ہو چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی مسجد کے گرد فلسطینی جمع ہیں: رائیٹرز
اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی مسجد کے گرد فلسطینی جمع ہیں: رائیٹرز

اسرائیلی فوج نے پیر کو بیان جاری کیا ہے کہ انہوں نے رات بھر غزہ کی پٹی میں ’محدود حملے‘ کیے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کے فضائی حملے ’ان جگہوں پر مرکوز ہیں جہاں فلسطینی کسی بھی وسیع اسرائیلی حملے کے جواب کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔‘

روئٹرز کے مطابق اسرائیل کے تازہ ترین اقدامات کو بیان کرتے ہوئے ایک ٹیلی ویژن بریفنگ میں اسرائیل کے چیف ملٹری ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے کہا کہ ’رات کو ٹینکوں اور پیادہ دستوں کی طرف سے چھاپے مارے گئے تھے۔ یہ چھاپے وہ چھاپے ہیں جو دہشت گردوں کے سکواڈ کو نشانہ بناتے ہیں، ان لوگوں کو جو جنگ میں اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔‘

ان حملوں کے بارے میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دہشت گرد کہاں جمع ہو رہے ہیں، کیسے منظم ہو رہے ہیں، ہمارا کردار ان خطرات کو کم کرنا ہے۔‘

حماس کے مسلح ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی افواج غزہ کے جنوبی علاقے میں خان یونس کے مشرق میں دراندازی کرنے والی اسرائیلی بکتر بند فوج کے ساتھ مصروف عمل تھیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بریگیڈ نے دو اسرائیلی بلڈوزر اور ایک ٹینک کو تباہ کر دیا اور اسرائیلی افواج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔‘

اسرائیلی جنگی ساز وسامان یا گاڑیوں کی تباہی کے بارے میں فوری طور پر کوئی اسرائیلی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

ایک سوگوار چارپائی نہ ملنے کی وجہ سے بچے کی لاش ہاتھوں میں اٹھائے تدفین کو لا رہا ا ہے: رائیٹرز
ایک سوگوار چارپائی نہ ملنے کی وجہ سے بچے کی لاش ہاتھوں میں اٹھائے تدفین کو لا رہا ا ہے: رائیٹرز

یو این آر ڈبلیو اے نے اپنے پہلے کیمپ میں تقریباً ڈھائی سو خیمے لگائے جن میں تقریباً پانچ ہزار بے گھر افراد نے پناہ لی۔ اس منظر نے غزہ کے رہائشیوں کے ذہنوں میں 1948 کے نکبہ کے دوران فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی یاد تازہ کردی جب وہ ان خیموں میں رہتے تھے جو بعد میں نکبہ کی علامت بن گئے۔

یو این آر ڈبلیو اے کے میڈیا ایڈوائزر عدنان ابو حسنہ نے کیمپ کے بارے میں کہا کہ ’ہزاروں خاندانوں نے اپنے تمام ارکان کے ساتھ اس جگہ پر پناہ لے رکھی ہے اور بے گھر افراد کے لیے یہ نیا کیمپ بے گھر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے سکولوں میں جمع ہونے کے پیش نظر قائم کیا گیا جو پناہ گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ غزہ میں اپنی نوعیت کا پہلا کیمپ ہے جس میں غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں سے تعلق رکھنے والے بے گھر افراد مقیم ہیں۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں