ہم نے قیدیوں کی تلاش کے لیے چھاپے مارےتوحماس نے گھات لگا کر جواب دیا:اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سات اکتوبر کو حماس کی سرحد پار کی گئی کارروائی میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں اور غیرملکیوں کی تلاش کے لیے غزہ کی پٹی میں خصوصی چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔

اسرائیلی فوج نے اعتراف کہا کہ چھاپہ مار کارروائیوں کو ناکام بنانے کے لیے حماس کے ارکان گھات لگائے بیٹھے تھے اور انہوں نے گھات لگا کر اسرائیلی فوجیوں پر حملے کیے۔

فوج کے ترجمان ڈینیل ہاگری نے کہا کہ ان کی افواج اگلے مرحلے کی تیاری کر رہی ہیں۔

انہوں نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ان چھاپہ مار کارروائیوں میں حماس کے بہت سے عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا اور ان میں سے درجنوں مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے اہم ٹھکانوں پر بمباری کی اور لبنان کے ساتھ شمالی سرحد پر میزائل لانچنگ پیڈز اور حزب اللہ کے 20 سیلوں کو بھی نشانہ بنایا۔

ترجمان نے انکشاف کیا کہ غزہ کی پٹی میں اب تک ان کے 308 فوجی مارے گئے اور کم از کم 222 پکڑے گئے ہیں۔

امدادی سامان کی اسکریننگ

انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ روز جنوبی غزہ کی پٹی میں پہنچنے والے امدادی ٹرکوں کا معائنہ کیا۔

یہ بات اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی فوج نےاعلان کیا تھا کہ اس کی افواج نے 24 گھنٹوں کے اندر غزہ کی پٹی میں حماس کے 320 ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ انہوں نے ایکس ویب سائٹ پر مزید کہا کہ وہ محصور سیکٹر میں تحریک کے فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا جاری رکھیں گے۔

پیر کو غزہ کی پٹی کے کئی علاقوں میں شدید اسرائیلی حملے دیکھنے میں آئے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بمباری میں شمال میں جبالیہ اور بیت لاہیا، وسطی غزہ گورنری اور الرمل کے پڑوس، مغرب میں الشاطی کیمپ اور جنوب میں خان یونس اور رفح میں حماس کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی سے حماس نے اسرائیل پراچانک حملہ کرکےسیکڑوں اسرائیلیوں کو ہلاک کرنےکے ساتھ دوسو سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اس کے بعد اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بڑے پیمانے پر جنگ مسلط کی ہے جس میں بڑی تعداد میں عام شہری جن میں زیادہ تر بچے اورخواتین شامل ہیں مار جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں