مشرق وسطیٰ

اسرائیل کو نہتے شہریوں کے ’قتل کی غیر مشروط‘ اجازت نہیں ہونی چاہئے: امیر قطر

’اسرائیلی قبضے، محاصرے اور آباد کاری کی حقیقت کو نظر انداز کرتے رہنا قابل عمل نہیں ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خلیجی ریاست قطر کے امیر نے منگل کو اسرائیل کے حامیوں کی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہوں (حمایتیوں) نے حماس کے ساتھ جنگ میں اسے ’قتل کرنے کا لائسنس‘ دے رکھا ہے اور سوال اٹھا کہ اس تنازع سے حاصل کیا ہو گا؟

امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت بڑی طاقتوں نے اسرائیل کی حمایت کے لیے ریلیاں نکالی ہیں اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے اس سات اکتوبر کے حملے کے بعد اپنے دفاع کے حق کی توثیق کی ہے۔

قطر کی شاہی عدالت کی طرف سے جاری کردہ ایک ترجمہ کے مطابق امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے قطر کے قانون ساز ادارے شوریٰ کونسل کے اجلاس میں کہا: ’ہم کہہ رہے ہیں کہ بہت ہو گیا ہے۔

’اسرائیل کو غیر مشروط گرین لائٹ اور قتل کا مفت لائسنس دینا ناقابل قبول ہے اور نہ ہی قبضے، محاصرے اور آباد کاری کی حقیقت کو نظر انداز کرتے رہنا قابل عمل ہے۔"‘

قطر، خلیج میں امریکہ کا کی اتحادی ریاست ہے، جہاں خلیجی ملک میں ایک بڑا امریکی فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔ یہاں پر حماس کے سیاسی شعبہ کے دفاتر بھی موجود ہیں۔ جو اس کے خود ساختہ جلا وطن رہنما اسماعیل ہنیہ کی مرکزی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتے ہے۔

امیر خلیجی بادشاہت نے حماس کے ساتھ ایک مواصلاتی چینل کے طور پر کام کیا ہے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جن میں سے اب تک چار کو رہا کیا گیا ہے۔

امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے غزہ کے اسرائیل کے محاصرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ :ہمارے دور میں پانی کو بند کرنے اور ادویات اور خوراک کو پوری آبادی کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانا چاہیے۔

’ہم اس خطرناک اضافے کے حوالے سے ایک سنجیدہ علاقائی اور بین الاقوامی مؤقف کا مطالبہ کرتے ہیں، جس کا ہم مشاہدہ کر رہے ہیں اور جس سے خطے اور دنیا کی سلامتی کو خطرہ ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم ان لوگوں سے پوچھنا چاہتے ہیں جنہوں نے جنگ کے ساتھ اتحاد کیا ہے اور وہ لوگ جو کسی بھی اختلاف رائے کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں: اس جنگ کے نتیجے میں کیا ہو گا؟‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں