امریکی فوج نے شام میں فوجی اڈے کے قریب دو ڈرون مار گرائے: سینٹرل کمانڈ

پینٹاگون اور امریکی فوج کے سینیئر حکام کہتے ہیں کہ وہ شرقِ اوسط میں "امریکی افواج اور اہلکاروں کے خلاف قریب ترین مدت میں فوجی کشیدگی میں نہایت اہم اضافے" کا امکان دیکھتے ہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی فوج نے کہا کہ اس نے پیر کی صبح جنوب مغربی شام میں امریکی اور اتحادی افواج کے قریب دو یک طرفہ حملہ کرنے والے ڈرونز کو تباہ کر دیا اس سے پہلے کہ وہ اپنے مطلوبہ اہداف تک پہنچتے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا، "انتہائی سخت الرٹ کے اس وقت میں ہم خطے کی صورتِ حال پر محتاط نظر رکھے ہوئے ہیں اور امریکی اور اتحادی افواج کے دفاع کے لیے ضروری اور متناسب کارروائی کریں گے۔"

پینٹاگون اور امریکی فوج کے سینیئر حکام کہتے ہیں کہ وہ شرقِ اوسط میں "امریکی افواج اور اہلکاروں کے خلاف قریب ترین مدت میں فوجی کشیدگی نہایت اہم اضافے" کا امکان دیکھتے ہیں۔

عراق میں خود کو مزاحمتِ اسلامیہ کہنے والے ایک گروپ نے پہلے کہا تھا کہ اس نے شام میں التنف اور المالکیہ میں امریکی افواج کے خلاف ڈرون حملے کیے تھے۔ امریکہ نے ان حملوں کو کسی خاص فریق سے منسوب نہیں کیا۔

اسی گروپ نے ہفتے کے روز عراق میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا۔

گذشتہ ہفتے شام اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملے ہوئے۔ پینٹاگون کے پریس سیکرٹری بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائڈر نے گذشتہ ہفتے کہا، "واضح طور پر یہ ڈرون کی سرگرمیوں کی اقسام کے لحاظ سے ایک اضافہ ہے جو ہم نے عراق اور شام میں دیکھا ہے۔" پینٹاگون نے یہ بھی کہا کہ ایک امریکی شہری ٹھیکیدار کو پناہ کے دوران "دل کا عارضہ" لاحق ہوا اور ابتدائی وارننگ سسٹم کی عراق میں عین الاسد ایئر بیس کے قریب پہنچنے کے ممکنہ خطرے کی نشاندہی کے بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔

داعش سے لڑنے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر شام میں تقریباً 900 اور عراق میں 2,500 امریکی فوجی موجود ہیں۔ داعش کسی زمانے میں دونوں ممالک کے اہم علاقوں پر قابض تھا لیکن اسے بین الاقوامی فضائی حملوں کی مدد سے مقامی افواج نے پیچھے دھکیل دیا تھا۔

ہفتے کے آخر میں پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ آسٹن اور سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن دونوں نے کہا شرقِ اوسط میں امریکی افواج کے خلاف ایرانی پراکسیز کی طرف سے "تشدد میں اضافے کا امکان" ہے۔

7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد آسٹن نے مشرقی بحیرۂ روم میں دو امریکی طیارہ بردار بحری جنگی گروپوں کو تعینات کیا اور لڑاکا طیاروں کو بڑھانے کا حکم دیا۔ اور ہفتے کے آخر میں انہوں نے دوبارہ شرقِ اوسط میں امریکی فوج کی پوزیشن میں اضافہ کیا۔ آسٹن نے امریکی ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور طیارہ بردار بحری بیڑے کو اسرائیل کے قریب جانے کا حکم دیا، امریکی افواج کے لیے فورس تحفظ بڑھانے کے لیے ایک ٹی ایچ اے اے ڈی بیٹری اور اضافی پیٹریاٹ بٹالین کو خطے میں تعینات کیا اور مزید امریکی فوجیوں کو تعیناتی کے لیے تیار رہنے کے احکامات پر رکھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں