بمباری کے باوجود 800 اردنی ڈاکٹر زخمیوں کے علاج کے لیے غزہ داخلے کے منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری مسلسل 18ویں روز میں جاری ہے۔ دوسری طرف 800 اردنی ڈاکٹر جنہوں نے اپنے طور پر رضاکارانہ خدمات انجام دینے کے لیے غزہ جانے کا فیصلہ کیا ہے جنگ سے متاثرہ علاقے میں داخل ہونے کے منتظر ہیں جہاں وہ جنگ کے زخمیوں کے علاج معالجےمیں مدد کرنا چاہتے ہیں۔

اردنی ڈاکٹروں نے اپنے ڈیوٹی کے مقامات اور متعلقہ اداروں سے کھلی چھٹی کی درخواست دی ہے تاکہ وہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری سے زخمی ہونے والوں کا علاج اور مرہم پٹی کرسکیں۔

اردنی میڈیکل ایسوسی ایشن کی ریلیف اور ایمرجنسی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر مظفر الجلامدہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں زخمیوں اور بیماروں کے علاج کے لیے جانے کے خواہشمند ڈاکٹروں کو رضاکارانہ طور پر رجسٹر کرنے کا دروازہ کھلا ہے۔

اگر انہیں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے تو وہ غزہ میں طبی خدمات انجام دینے کے اہل ہوں گے۔ انہیں بارڈر عبور کرنے کے لیے محفوظ راہداریاں مل جائیں۔ اب تک غزہ میں خدمات انجام دینےوالےڈاکٹروں کی تعداد تقریباً 800 تک پہنچ چکی ہے جن میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں

رضاکاروں کی تقسیم

الجلامدہ نے عندیہ دیا کہ رضاکار ڈاکٹروں کو طبی ٹیموں میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ وہ غزہ کی پٹی جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اگر یہ سمجھوتہ طے پا جائے کہ ان کے داخلے کی اجازت دی جائے تو وزارت خارجہ اور غزہ کی پٹی کے ساتھ مل کرمصر میں اردن کے سفارت خانے کی منظوری سے انہیں غزہ بھیجا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت قاہرہ میں متعدد اردنی ڈاکٹر موجود ہیں، جو وہاں بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کریں گے ۔ وہ بیماروں اور زخمیوں کے علاج کے لیے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت کے منتظر ہیں۔

بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے اردن اور فلسطینی حکومتوں، یونینوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی کے جرائم کے لیے بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں