کیا اسرائیل غزہ پر زمینی حملہ یرغمالیوں کی خاطر ملتوی کر دے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے دو سینیر عہدیداروں نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ پر زمینی حملے کو چند دنوں کے لیے ملتوی کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ وہاں حماس کے زیر حراست بڑی تعداد میں یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کی جاسکے۔

ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے Axios ویب سائٹ کو بتایا کہ "اسرائیل اور بائیڈن انتظامیہ غزہ سے یرغمالیوں کو نکالنے کی ہر ممکن کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ اگر حماس نے ایک بڑے پیکج کی تجویز پیش کی تو ہم یقیناً اس کے بدلے میں کچھ کرنے کے لیے تیار ہوں گے"۔

حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے بعد سے غزہ میں 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایک بار جب ان کی فوج نے زمینی حملہ شروع کر دیا تو یرغمالیوں کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔

اسرائیلی حکام نے کہا کہ اسرائیلیوں نے مصری ثالثوں سے کہا ہے کہ اگر حماس کسی قسم کے یرغمالیوں کے معاہدے تک پہنچنا چاہتی ہے تو اسے ان تمام عورتوں اور بچوں کو رہا کرنا چاہیے جو اس کے پاس ہیں۔

یرغمالیوں کے بارے میں اسرائیلیوں کا موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بائیڈن انتظامیہ اسرائیل کو غزہ میں زمینی جنگ شروع کرنے میں تاخیر کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکا اسرائیل کی حمایت ظاہر کرنے اور حوصلہ افزائی کے لیے فوجی اثاثے خطے میں منتقل کر رہا ہے۔ تاکہ حزب اللہ اور دوسرے ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے حملوں سے اسرائیل کو بچایا جا سکے۔

امریکی حکام کا خیال ہے کہ یرغمالیوں میں ان دس امریکیوں میں سے بھی ہیں جو غزہ میں ابھی تک لاپتہ ہیں۔

اسرائیلی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران غزہ میں حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی فضائی حملوں میں کچھ یرغمالی مارے گئے ہوں۔

فضائی حملوں میں 22 یرغمالی ہلاک

حماس کے اہلکار خالد مشعل نے پیر کے روز اسکائی نیوز کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں یرغمالیوں کو کئی مقامات پررکھا گیا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں 22 قیدی ہلاک ہو گئے ہیں۔

حماس نے حالیہ دنوں میں چار یرغمالیوں کو رہا کیا ہے۔ پیر کے روز حماس نے مصر کی ثالثی کے معاہدے کے تحت دو اسرائیلی خواتین85 سالہ یوشیویڈ لیفشٹز اور 79 سالہ نوریت کوپر کو رہا کیا۔

گذشتہ ہفتے حماس نے دو امریکی خواتین جوڈتھ رانان اور ان کی بیٹی نٹالی کو کو رہا کردیا تھا۔ ان کا تعلق الینوائے کےعلاقے ایوانسٹن سے ہے۔ ۔حماس نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے ہفتے کے آخر میں اسرائیلی خواتین کو رہا کرنے کی تجویز دی تھی، لیکن اسرائیل نے انکار کر دیا۔

اسرائیلی حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حماس نے ابتدائی طور پر اسرائیل سے غزہ پر اپنے فضائی حملے چھ گھنٹے کے لیے روکنے کی درخواست کی تھی۔

اسرائیلی حکام نے کہا کہ انہوں نے انکار کر دیا کیونکہ وہ ایسی نظیر نہیں بنانا چاہتے تھے جس میں حماس جب چاہے دو دو یرغمالیوں کے لیے جنگ بندی کرائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں