’حماس تمام قیدیوں کو رہا بھی کردے تب بھی غزہ کو ایندھن کی سپلائی نہیں ہوگی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ایک سینیر مشیر نے منگل کو سی این این کو بتایا کہ اسرائیل نے "کچھ ایندھن" کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دی ہے، لیکن انہوں نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ اس ایندھن کو اپنی فوجی مشین میں پمپ کرنا چاہتی ہے۔

"ایندھن کی ترسیل "

کسی اسرائیلی اہلکار کی طرف سے یہ پہلا اشارہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج کی جانب سے کیے گئے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے ایندھن کی کھیپ داخل ہوئی ہے۔

’سی این این‘ نے منگل کو مارک ریگیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں ایندھن کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا ااہے تمام قیدیوں کو رہا ہی کیوں نہ کر دیا جائے۔

ان کا اشارہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی دھڑوں کے ہاں یرغمال بنائے گئے 200 سے زائد اسرائیلیوں اور غیرملکیوں کی طرف تھا۔

ان لوگوں کو حماس نے سات اکتوبر کے سرحد پر حملے کے دوران حملہ کرکے پکڑ لیا تھا جس کے بعد انہیں غزہ لے جایا گیا تھا۔

"اسلحہ کے زور پر لوٹ لیا"

ریگیو نے کہا کہ "ہم نے کچھ ایندھن کو مصر کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی لیکن انہوں نے مزید کہا کہ وہ کھیپ ہتھیاروں کے زور پر چوری کی گئی۔اسرائیل کا خیال ہے کہ یہ ایندھن حماس کی فوجی کارروائیوں میں گیا تھا۔

ریگیو نے مزید کہا کہ"اسرائیل کا فیصلہ یہ ہے کہ ایندھن کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ حماس اسے چوری کرے گی اور ہم پر فائر کیے جانے والے راکٹوں کو طاقت کے لیے استعمال کرے گی"۔

"ایندھن حماس کی فوجی مشین میں ڈالا جائےگا"

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ حماس کی فوجی مشین میں مزید ایندھن ڈالا جائے۔

"جنگ بندی حماس کو سکون کا سانس دینے کے مترادف"

دوسری طرف امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے منگل کو کہا کہ غزہ کی پٹی میں کسی بھی جنگ بندی سے حماس کو اسرائیل پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے لیے "وقت" ملے گا۔

وزارت کے ایک بیان میں ترجمان میتھیو ملر کے حوالے سے ایک پریس بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ "ہماری توجہ غزہ میں امداد پہنچانے پر مرکوز ہے۔ 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی کشیدگی میں کسی بھی جنگ بندی کا مطلب "مسلسل اسرائیلی مصائب" ہوگا۔

ہسپتال سروس سے باہر

ایک متعلقہ سیاق و سباق میں حماس نے کہا ہے کہ غزہ میں انڈونیشیا ہسپتال میں بجلی کی بندش کےباعث مریضوں کے علاج کا کام بند کر دیا گیا ہے۔ حماس نے ہسپتالوں کی بجلی بند کرنے کو "انسانیت کے خلاف جرم" قرار دیا۔

انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ "ہم اپنے عرب اور اسلامی ممالک اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہسپتالوں کے لیے برقی جنریٹروں کو چلانے کے لیے ایندھن کی فراہمی کے لیے فوری اقدام کریں۔ ہم ایندھن کی فراہمی میں غفلت کے نتائج کے خلاف خبردار کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے۔ ہسپتالوں میں تمام بیماروں اور زخمیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے مترادف قرار دیا جائے گا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں