اسرائیلی خاتون کی رہائی کے بعد حماس کی تعریف نے اسرائیلی حکام کو مایوس کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کی قید سے رہائی پانے والی 85 سالہ اسرائیلی خاتون کے حماس کے بارے میں خیالات پر اسرائیل کے حکام کو مایوسی ہوئی ہے۔ پیر کے روز رہا ہونے والی دو عمر رسیدہ خواتین میں سے ایک یوشیوید لیفشٹز نے منگل کے روز پریس کانفرنس کر کے فلسطینی مزاحمتی تحریک کے برتاؤ کی تعریف کی تھی۔

خاتون نے غزہ میں حراست کے دوران کے اپنے تجربات میڈیا کے ساتھ شیئر کیے۔ تاہم اس نے اس پریس کانفرنس سے پہلے کوئی خاص تیاری نہیں کی تھی۔

یوشیوید لیفشٹز کا کہنا تھا کہ حماس کے لوگوں کا رویہ اور برتاؤ بہت شریفانہ تھا۔ دوران حراست خاتون کو ہر طرح کی طبی سہولیات کے علاوہ دو تین دن بعد ڈاکٹروں کا وزٹ بھی میسر تھا اور خوراک کے حوالے سے بھی کوئی شکایت نہ تھی۔ حتیٰ کہ قیدیوں کے ساتھ جس طرح کا عمومی رویہ توقع کیا جاتا ہے، وہ بالکل نہیں تھا۔

اس پریس کانفرنس کے بعد اسرائیلی حکام کی طرف سے سامنے آنے والے مؤقف کو سرکاری ابلاغی ادارے کان نیوز نے رپورٹ کیا ہے۔ اس لے مطابق اسرائیلی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ خاتون کو پریس کانفرنس کی اجازت دینا ایک غلطی تھی۔

نیز ان کا خیال ہے کہ اگر خاتون کی پریس کانفرنس سے پہلے اس سے گفتگو ہوجاتی تو زیادہ بہتر تھا۔ تاہم رہائی پانے والی یوشیوید لیفشٹز کا شوہر ابھی تک لاپتہ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حماس کی قید میں ہے۔ تاہم یہ مصدقہ بات نہیں ہے۔ البتہ 79 سالہ نوری اضحاق کو پیر کے روز ہی رہائی ملی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں