اسرائیل کے فضائی حملے میں شام کے آٹھ فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ بدھ کی صبح جنوبی شام میں اسرائیلی حملوں میں آٹھ فوجی ہلاک ہو گئے جس کے بارے میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ پہلے داغے گئے ایک راکٹ کا جواب تھا۔

لبنان اور شام کے ساتھ اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر لبنانی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ اور اتحادی فلسطینی گروہوں کے مابین مسلسل راکٹ اور توپ خانے کے تبادلے سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ غزہ میں حماس کے ساتھ اسرائیل کی جنگ میں ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا، "صبح تقریباً 1:45 بجے (2245 جی ایم ٹی) اسرائیلی دشمن نے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں سے فضائی جارحیت کی۔"

انہوں نے کہا کہ حملوں میں سات فوجی زخمی اور مادی نقصان بھی ہوا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ 11 فوجی ہلاک ہوئے جن میں چار افسران بھی شامل تھے۔

برطانیہ میں قائم جنگی نگران نے کہا کہ حملوں نے "اسلحہ کے ڈپو اور شامی فضائی دفاعی ریڈار کو تباہ کر دیا" اور ایک پیادہ یونٹ کو بھی نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے لڑاکا طیاروں نے کل (منگل) کو اسرائیل پر حملے کے جواب میں شامی فوج سے تعلق رکھنے والے فوجی ڈھانچے اور دستی بموں کو نشانہ بنایا۔

شام کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اتوار کو اسرائیلی حملوں نے شام میں دمشق اور حلب کے دو اہم ہوائی اڈوں کو سروس سے محروم کر دیا۔

7 اکتوبر کو فلسطینی اسلامی تحریک حماس کے عسکریت پسند اسرائیل میں داخل ہو گئے اور شدید ہنگامہ آرائی کی جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1400 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔ تب سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

حماس نے اسرائیل کی تاریخ کے بدترین حملے میں 220 سے زائد افراد کو یرغمال بھی بنا لیا۔

اسرائیل نے جوابی کارروائی میں تباہ کن فضائی حملے کیے اور غزہ کی تقریباً مکمل زمینی، سمندری اور فضائی ناکہ بندی کر دی ہے جہاں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ اس جنگ میں اب تک 5,791 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

شام میں ایک عشرے سے زیادہ کی خانہ جنگی کے دوران اسرائیل نے اپنے شمالی ہمسایہ ملک پر سیکڑوں فضائی حملے شروع کیے ہیں جن میں بنیادی طور پر حزب اللہ کے جنگجوؤں اور ایران کی حمایت یافتہ دیگر فورسز کے ساتھ ساتھ شامی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

شام پر کیے جانے والے انفرادی حملوں پر اسرائیل شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتا ہے لیکن اس نے بارہا کہا ہے کہ وہ اپنے سخت دشمن ایران کو علاقے میں موجودگی کو بڑھانے کی اجازت نہیں دے گا جو صدر بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

اسرائیل نے 1967 کی چھے روزہ جنگ میں گولان کی پہاڑیوں کے زیادہ تر حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں ان کا الحاق کر لیا۔ اس اقدام کو اقوامِ متحدہ نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں