جنوبی کوریا کی خاتونِ اول نے ریاض میں پودا لگایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی کوریا کی خاتونِ اول کم کیون ہی نے سیول اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی 61 ویں سالگرہ کی یاد میں ریاض میں ایک درخت لگایا۔

کم جنہوں نے حال ہی میں اپنے شوہر صدر یون سک یول کے ساتھ مملکت کا دورہ کیا، نے رائل کمیشن فار ریاض سٹی کے زیرِ اہتمام ایک تقریب کے دوران سائنٹیفک پارک میں پودا لگایا۔

پیر کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران صدر یون نے مملکت کے ویژن 2030 کے لیے اپنی مسلسل حمایت کا اعلان کیا اور ولی عہد کی قیادت میں ہونے والی متأثرکن پیش رفت کا اعتراف کیا۔

جنوبی کوریا کے صدر نے 2034 ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے سعودی عرب کی بولی کا بھی خیر مقدم کیا۔ فریقین نے سعودی ویژن 2030 کے اصلاحاتی منصوبے میں بیان کردہ اہداف کے حصول میں سعودی-کوریائی مشترکہ وژن 2030 کمیٹی کے اہم کردار کی تعریف کی۔

سائنٹیفک پارک میں خاتونِ اول کا استقبال ریاض کے میئر شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز بن عیاف اور ریاض سٹی رائل کمیشن میں گرین ریاض کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبدالعزیز المقبل نے کیا۔

کم کو گرین ریاض پراجیکٹ اور معیارِ زندگی کو بڑھانے پر اس کے مثبت اثرات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہیں ریاض میں ہونے والی نمایاں ترقی اور شہر میں جاری مختلف بڑے منصوبوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

جنوبی کوریا کی جانب سے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے سبز اقدامات کے آغاز کے لیے بھی اپنی حمایت کا اظہار کیا گیا۔

گرین ریاض دارالحکومت کے ان عظیم الجثہ منصوبوں میں سے ایک ہے جو شاہ سلمان نے پورے دارالحکومت میں 7.5 ملین درخت لگانے کے ہدف کے ساتھ شروع کیے ہیں جس سے سبز جگہ کا فی کس حصہ 1.7 مربع میٹر سے بڑھ کر 28 مربع میٹر ہو گیا ہے۔

یہ منصوبہ سعودی گرین انیشیٹو اور ویژن 2030 کے اہداف میں سے ایک کے حصول میں بھی کردار ادا کرتا ہے جو آئندہ عشروں میں مملکت میں 10 بلین درخت لگانا ہے۔

یون اور ان کا وفد منگل کو ریاض سے واپس روانہ ہوا۔

انہیں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز اور سرمایہ کاری کے وزیر خالد الفالح سمیت دیگر حکام نے رخصت کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں