جنگوں سےتھک چکے،ہم گھربناتےہیں اسرائیل تباہ کردیتاہے،غزہ کی ستم رسیدہ خاتون کی فریاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر سات اکتوبر سےجاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں لاکھوں شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔

محصور غزہ میں دن رات جاری بمباری سے وہاں کے باشندوں کی مشکلات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

شہری اسرائیلی بمباری سے بچنے کے لیے جگہیں تبدیل کرنے پرمجبور ہیں۔

العربیہ کے کیمرہ مین نے غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والی ایک خاتون کے تاثرات جاننا چاہتے تو اس نے صورتحال پر اپنے غصے اور مایوسی کا اظہار کیا۔ اس نے کہا کہ وہ اپنے بچوں اور دیگر بے گھر افراد کے ساتھ جنگ کی وجہ سے غزہ کے جنوب میں واقع کیمپوں میں رہ رہی ہے۔

خیمے کے اندر سے بے گھر خاتون نے کہا کہ "ہم جس حال میں ہیں اس میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میں اپنے بچوں کو نہلانا چاہتی ہوں، لیکن پانی نہیں۔ اگر پانی کی آدھی بوتل ملی، وہ خیمے کے باہر کھلی ہوا میں دھوتی ہے۔

اس نے گھروں میں واپس آنے اور انہیں دوبارہ تعمیر کرنے کی اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ اس نے کہا کہ "ہم اپنے گھروں میں بیٹھ کر ان کی تعمیر نو کرنا چاہتے ہیں، بہت جنگ ہوچکی۔ ہم جنگوں سے تھک چکے ہیں۔ ہم گھر بناتے ہیں اسرائیل بمباری کرکے تباہ کردیتا ہے۔ یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے‘‘۔

غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 6,546 فلسطینی شہید ہوئے جن میں 2,704 بچے بھی شامل ہیں، 18,000 سے زیادہ زخمی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں