ریڈ سی گلوبل کی فاطمہ الشیخی سمندری صنعت میں لوگوں کو حیران کر رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فاطمہ الشیخی نے سمندر کی محبت میں ریڈ سی گلوبل کے لیے خود کو سمندری صنعت میں گویا مستغرق کر لیا ہے۔

الشیخی کے پاس ایک سینئر لاجسٹک کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے روزانہ کا ایک محنت طلب نظام الاوقات ہوتا ہے لیکن یہ سب ان کے لیے اہمیت کے لائق ہے کیونکہ انہیں سمندر میں کام کرنا ہوتا ہے۔

وہ نظام الاوقات کو منظم، آپریشنز کی نگرانی اور کشتی کے کپتانوں کا انتظام کرتے ہوئے دفتر اور سائٹ پر اپنا وقت گزارتی ہیں- وہ اکثر کام کے لیے جدہ جہاں ان کا خاندان رہتا ہے اور املوج کے درمیان سفر کرتی ہیں۔ کام کے مقامات میں تنہا جزیرے شامل ہیں لیکن یہ شاید ہی کوئی بڑا چیلنج ہے۔

فاطمہ الشیخی جو ریڈ سی گلوبل میں ایک سینئر لاجسٹک کوآرڈینیٹر ہیں۔ یہ بحری صنعت میں سعودی خواتین کی شراکت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو توڑ رہی ہیں جو روایتی طور پر مردوں کے زیرِ تسلط ہے۔
فاطمہ الشیخی جو ریڈ سی گلوبل میں ایک سینئر لاجسٹک کوآرڈینیٹر ہیں۔ یہ بحری صنعت میں سعودی خواتین کی شراکت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو توڑ رہی ہیں جو روایتی طور پر مردوں کے زیرِ تسلط ہے۔

الشیخی نے کہا۔ "بڑے جہازوں کے بیڑے کے ساتھ مین لینڈ جیٹی ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنی ذمہ داری پر بہت فخر ہے۔ کچھ جہاز روزانہ تقریباً 3,000 مزدوروں کی نقل و حمل کے لیے ہوتے ہیں اور کچھ کو لینڈنگ کرافٹس کہا جاتا ہے جو ہر جزیرے کے ہر پروجیکٹ کے لیے بھاری سامان لے جاتے ہیں۔"

بحری شعبہ میں انہوں نے جو اہداف حاصل کیے ان میں سے ایک میری ٹائم اپ اسکل ٹریننگ پروگرام کو نافذ کرنا تھا۔ اس پروگرام نے الشیخی اور ان کی باقی ٹیم کو اس قابل بنایا کہ وہ اردگرد کی کمیونٹیز سے کشتی کے 44 مقامی کپتانوں اور لاجسٹک رابطہ کاروں کی خدمات حاصل کر سکیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس نے نہ صرف ان کی مقامی کمیونٹی بااختیار بنایا بلکہ کپتانوں کو ذاتی اور پیشہ ورانہ طور پر ترقی کے مواقع بھی فراہم کیے۔

بحیرۂ احمر ہمیشہ سے جدہ میں پیدائش اور پرورش پانے والی الشیخی کی زندگی کا حصہ رہا ہے اور وہ اپنے والد سے متاثر ہوئیں جو کبھی چھوٹی تیز رفتار کشتیوں کے ایک چھوٹے بیڑے کے مالک تھے۔

"میں تہامہ کے ساحل پر واقع ایک چھوٹے سے شہر ڈوگہ میں پیدا ہوئی۔ یہ سمندر سے 20 منٹ کے فاصلے پر ہے۔ اس لیے سمندر بچپن سے ہی میری زندگی کا حصہ رہا ہے۔ میں اپنے والد کے ساتھ ماہی گیری، کشتی رانی اور اسپیڈ بوٹنگ کے لیے جاتی تھی۔"

"میں نے یہ کام کرنے کا کبھی نہ سوچا تھا پھر بھی یہ سب میری یادوں سے وابستہ ہے۔"

الشیخی تقریباً ہر صبح کام سے پہلے تیراکی کرتی ہیں اور فٹ رہنے کے لیے والی بال بھی کھیلتی ہیں۔ انہوں نے کہا، "کھیل میری زندگی کا حصہ ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں