مشرق وسطیٰ

غزہ پرمنگل اور بدھ کی رات اسرائیلی بمباری، 80 فلسطینی شہید

مجموعی تعداد 6000 کے قریب؛ غزہ میں جگہ جگہ لاشیں، خون اور ملبے کے ڈھیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے منگل اور بدھ کی درمیانی رات کم از کم 80 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ غزہ کی حکومت جسے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس چلاتی ہے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صرف رات کے دوران تازہ بمباری میں بیان کردہ شہادتوں کے علاوہ سینکڑوں فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔

اب تک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ میں لگ بھگ 6000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ جن میں ایک ذریعے کے مطابق 60 فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں۔

9 اکتوبر 2023 کو غزہ میں ایک ویڈیو سے لی گئی اس اسکرین گریب میں ایک طبیب زخمی فلسطینی بچے کو ایمبولینس میں لے جا رہا ہے۔ (رائٹرز)
9 اکتوبر 2023 کو غزہ میں ایک ویڈیو سے لی گئی اس اسکرین گریب میں ایک طبیب زخمی فلسطینی بچے کو ایمبولینس میں لے جا رہا ہے۔ (رائٹرز)

بتایا گیا ہے کہ غزہ میں صرف ایک رات کے دوران ہونے والی یہ اب تک کی یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ کیونکہ منگل کی رات سے اسرائیل نے بمباری میں شدت پیدا کر دی ہے۔ یہ بمباری خاندانوں کے خاندانوں سمیت گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنا رہی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ روز سینکڑوں فلسطینی بمباری کی وجہ سے شہید ہوئے، جبکہ پانی وبجلی فراہمی کا نظام تباہ ہو جانے کی وجہ سے غزہ میں بالعموم 'شٹ ڈاون' کا ماحول ہوتا ہے۔

حماس کی وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق منگل کے روز مجموعی طور پر 704 فلسطینی لقمہ اجل بنے۔ ان میں زیادہ تر بچے اور خواتین تھیں۔ مسلسل بمباری اور بد ترین تباہی کی وجہ سے 23 لاکھ کی آبادی خوراک، پانی اور ادویہ کے علاوہ ایندھن اور کمبلوں تک سے محروم ہے۔

ادھر اسرائیل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ منگل کے روز اس 400 فضائی حملے کیے۔ تاکہ حماس رہنماوں کو ہلاک کیا جا سکے اور اس کے کمانڈ سنٹرز کو تباہ کیا جا سکے۔

غزہ کے وسطی اور جنوبی حصے میں ایسا کئی جگہوں پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ بڑی تعداد میں اپنے شہید اور زخمی ہونے والے بچوں یا بڑوں کو نکالنے میں مصروف تھے۔

ایسے ہی ایک منظر میں الاھلی ہسپتال کے ملبے کے قریب ایک فلسطینی باپ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ جو جھکا ہوا ہے اور اس کے تین بچوں کی لاشیں پڑی ہیں۔ کارکنوں نے 24 جنازے پڑھے ، جن میں سے اکثریت بچوں کے جنازے پڑھنے کی تھی۔

اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ہونے والے بچے 17 اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس کے ناصر ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ (اے ایف پی)

غزہ میں جہاں آئے روز ایک ہی خاندان کی کئی کئی ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔ ان میں دو خاندان ایسے بھی ہیں جن کے 47 افراد بمباری میں جان سے گئے ہیں۔ یہ لوگ رفح کے نزدیک رہتے تھے۔

خان یونس کے علاقے میں اسرائیلی بمباری کا ہدف بننے والی ایک چار منزلہ عمارت میں ایک ہی خاندان کے 13 افراد سمیت کل 32 افراد شہید ہو گئے۔ بچ جانے والے ایک فلسطینی نے بتایا کہ اس بلڈنگ میں 100 کے قریب بے گھر ہو چکے افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔

ایک مارکیٹ کے علاقے کو بھی اسی ح بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ اس بمباری سے نصیرات پناہ گزین کیمپ نشانہ بایا گیا۔ یہاں ایک سبزی کی دکان کا فرش فلسطینیوں کے سرخ سرخ، گرم گرم تازہ نوجواں لہو سے سرخ تھا۔

اس مسلسل ہونے والی بمباری اور ہر روز بڑھتی چلی جانے والی بمباری کے جواب میں حماس نے بھی اسرائیل کو تباہی کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں