غزہ پر روزانہ بمباری سے 400 سے زائد فلسطینی بچے شہید اور زخمی ہوتے ہیں:یونیسیف

دو ہفتوں کے دوران 2360 بچے شہید اور 5364 زخمی ہو چکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے غزہ پر ہونے والی مسلسل بمباری کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہر روز اسرائیلی بمباری سے غزہ میں اوسطاً 400 سے زائد فلسطینی بچے شہید اور زخمی ہو رہے ہیں۔

یونیسف کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک اسرائیلی فضائیہ کی طرف سے کی گئی بمباری سے 2360 فلسطینی بچے شہید ہوئے اور 5364 بچے زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے غزہ میں زخمی بچوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنیوالے اداروں کی ایمبولینس گاڑیاں اب تک ہزاروں زخمی بچوں اور سروس دے چکی ہیں اور ہزاروں کی لاشیں ڈھو چکی ہیں۔

عرب وزرائے خارجہ سمیت دنیا کے ملکوں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی وسلامتی کونسل میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگ بندی کی قراردادیں بھی سامنے آئی ہیں مگر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی مدد سے اسرائیل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کا کہہ رہے ہیں اور جنگ بندی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ امریکہ کے خیال میں جنگ بندی سے حماس کو فائدہ ہو گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2006 میں غزہ پر اسرائیلی بمباری سے ہونے والی بچوں کی ہلاکتوں کے مقابلے میں جاری بمباری سے آٹھ دنوں کے دوران کہیں زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ سات اکتوبر سے شروع اس جنگ میں اسرائیل نے دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ غزہ کی مکمل تباہی اور حماس کا مکمل صفایا کر دے گا۔

بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری انسانی تباہی اور بحران کا سبب بن رہی ہے۔

یونیسیف کے مطابق غزہ کی آبادی کا پچاس فیصد اس مسلسل بمباری، تباہی، بار بار کی بے گھری اور نقل مکانی کے سبب سخت صدمے اور نفسیاتی مسئلے سے دوچار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں