فلسطین اسرائیل تنازع

ملکہ اردن نے اسرائیل کے حق دفاع کی دلیل اور مغربی ذرائع ابلاغ کا بیانیہ مسترد کر دیا

مغربی دنیا اسرائیل کو مدد دے کر بمباری پر اکسا رہی ہے: ملکہ رانیہ کا سی این این کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

عالمی ذرائع ابلاغ میں سات اکتوبر سے جنگ شروع ہونے کے بیانیے کو عظیم دوہرا معیار قرار دیدیا۔ فلسطینی مائیں بھی اپنی بچوں سے دنیا بھر کی ماوں طرح محبت کرتی ہیں۔ مگر اپنے بچوں کو لاشوں میں بدلتا دیکھنے کو تیار ہیں ۔ اردن کی ملکہ انیہ کا انٹرویو میں مردانہ وار اور زور دار استدلال

اردن کی ملکہ رانیہ نے اسرائیل کی غزہ پر جنگ کے بارے میں عالمی رویے کو ' عظیم دوہرا معیار ' قرار دیا ہے۔ ملکہ نے اس معاملے میں دنیا کے بڑے طبقے کے بہرے اور گونگے پن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور حیرت کا اظہار کیا کہ مغربی دنیا نہ صرف بمباری کرنے والے کو مدد دے دہی بلکہ ایسا کرنے پر اکسا بھی رہی ہے۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا 6000 ہزار فلسطینی شہید ہوئے ان میں 2400 فلسطینی بچے بھی شامل ہیں۔ بستیاں ملبے میں تبدیل ہو گئیں یہ کیسا حق دفاع جس کا عالمی سطح پر پرچار کیا جارہا ہے۔

ملکہ رانیہ نے ان خیالات کا اظہار اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مسلسل جنگی ماحول میں تازہ اور جاری جنگی قسط کے اٹھارہویں روز امریکہ ٹی وی ' سی این این ' کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کیا ہے۔

ملکہ رانیہ نے انٹرویو کرنے والی معروف ٹی وی اینکر امان پور کے سوال کے جواب میں کہا ' مغربی ذرائع ابلاغ نے جس طرح کا بیانیہ پیش کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کی یہ جنگ سات اکتوبر سے شروع ہوئی یہ درست نہیں ہے۔'

'اسرائیل اور فلسطینیوں کی جنگ کی کہانی کی ایک تاریخ ہے۔ اس لیے بہت سے میڈیا ہاوسز کا یہ انداز کہ 'اسرائیل بر سر جنگ ' کے تحت سٹوری کور نہیں ہوتی ۔ کیونکہ بہت سے فلسطینیوں کے لیے 'علیحدگی کی دیوار ' اور خار دار آہنی تاروں کے پیچھے یہ جنگ کبھی رکی نہیں ہے۔ ( غالباً ملکہ رانیہ اس جنگ کو یوم نکبہ 14 مئی 1948 پر منتج ہونےوالی اس دہشت گردی کے تناظر میں دیکھ رہی تھیں جو ایک سازش کے تحت فلسطینیوں پر مسلط کی گئی اور جس کی کوکھ سے جنم لینے والی جنگ اب وقفے وقفے سے پھر ابھر آتی ہے، تاہم یہ کبھی مکمل رکی نہیں ہے۔ )

ملکہ رانیہ نے کہا ' یہ جنگ 75 برسوں پر پھیلی کہانی ہے۔ یہ کہانی ہے ہمہ گیر موت اور تباہی کی اور بے گھر ہونے کی کہانی۔' اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ملکہ کے حوالے سے رپورٹ کیا۔ ' مگر عالمی ذرائع ابلاغ کے جاری بیانیے سے جوہری ہتھیاروں سے لیس ایک علاقائی قوت جس نے قبضہ کیا ظلم اور جبر کا ارتکاب کیا اس کا حوالہ غائب ہوتا ہے۔ '

اردنی ملکہ نے واضح کیا 'اردن کے لوگ غم، درد اور صدمے کی اس صورتحال میں متحد ہیں اور فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ جو اسرائیل اور فلسطین کی جنگ کی ( نئی قسط) کے اب تک اٹھارہ دنوں میں شہریوں کی اموات سے جنم لے رہے ہیں۔ '

ملکہ اردن نے مزید کہا ' ہم دیکھ رہے ہیں فلسطینی مائیں جو اپنے بچوں کے نام ان کے ہاتھوں اور پیروں پر لکھ رہی ہیں کہ بمباری کا ہدف بننے کے بعد ان کے بچوں کی شناخت کی کوئی صورت باقی رہ سکے ۔ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ بمباری سے بچوں کی شہادتیں سب سے زیادہ ہو رہی ہیں اور ان کے بچے بمباری کے بعد لاشوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ '

ان کا کہنا تھا ' میں دنیا کو یاد دلانا چاہتی ہوں فلسطینی ماوں کو بھی اپنے بچے اتنے ہی عزیز اور پیارے ہیں جتنے کہ کسی اور جگہ کی ماں کو ہو سکتے ہیں۔'

ایک سوال پر انہوں نے کہا ' کچھ لوگ اس جاری جنگ کو اسرائیل کے حق دفاع کے حوالے سے جواز دینا چاہتے ہیں، یہ جوا ز درست نہیں ہے، اب تک 6000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور 2400 بچے بھی شہید ہو چکے ہیں۔ اس کو دفاع کا حق کیسے کہا جا سکتا ہے۔ '

ان کا کہنا تھا 'پچھلے دو ہفتوں میں ہم نے غزہ پر اندھی بمباری دیکھی ہے۔ خاندانوں کے خاندان ختم ہو گئے۔ محلے اور بستیاں تباہ ہو چکیں۔ ہسپتال ، سکول مسجدیں اور گرجا گھر سبھی کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ کیسا حق دفاع ہے؟ '

ملکہ اردن نے اس پہلو کا ذکر بھی مردانہ وار کیا کہ ' یہ جدید تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ انسانیت پر یہ مصیبت جاری ہے اور عالمی برادری جنگ بندی کا کہنے کو بھی تیار نہیں۔ عرب دنیا میں بہت سے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ مغربی دنیا صرف یہ سب کچھ برداشت نہیں کر رہی بلکہ بمباری کرنے والے کو مدد بھی دے رہی ہے اور اسے اکسا بھی رہی ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی بھی کر رہی ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں