عراق میں مسلح عناصر کے ہجوم نے اردن کو تیل کی سپلائی روک دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراقی ملیشیاؤں اور مسلح دھڑوں کے ہجوم نے تیل سے لدے ٹینکروں کو الطریبیل بندرگاہ کے ذریعے اردن میں داخل ہونے سے زبردستی روک دیا، جس کے بعد ان آئل ٹینکروں کو طریبیل بندرگاہ سے 160 کلومیٹر دور رطبہ شہر واپس جانا پڑا۔

اردن کے توانائی اور پٹرولیم مصنوعات کے ماہر عامر الشوبکی نے کہا کہ وہ اردن کو عراقی تیل کی برآمد میں پیشرفت پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ ان ہجوم کے ارکان نے صبح سویرے سے ڈرائیوروں کو ان کے ٹینک جلانے کی دھمکی دی تھی، ہتھیار اور لاٹھیاں لہراتے ہوئے ان کی طرف آئے۔ ہجوم ٹینکروں کے آخری گروپ کو اردن میں داخل ہونے سے روکنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس قافلے میں تل سے لدے 29 عراقی ٹینکر اور ایک اردنی ٹینکر شامل ہیں۔

الشوبکی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ غزہ پراسرائیلی فوج کی طرف سے اعلان جنگ کے بعد صدری تحریک کے کچھ پیروکار کئی دنوں سے اردن کی سرحد کے قریب جمع ہیں، جو اردن کو عبور کر کے اسرائیل پہنچنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

الشوبکی نے واضح کیا کہ تقریباً 60 آئل ٹینکرز طریبل بندرگاہ سے روزانہ ہوئے جن کی اگلی منزل اردن تھی۔ ان آئل ٹینکوں میں سے نصف اردنی اور باقی آدھے عراقی ہیں۔ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان تازہ ترین سرکاری معاہدے کے مطابق اس طرح 15 ہزار بیرل کرکوک کا روزانہ تیل اردن کی آئل ریفائنری کو فراہم کیا جاتا ہے، جو اردن کی روزانہ کی تیل کی ضرورت کا 15 فیصد ہے۔

اردن کی سرکاری وضاحت

دریں اثناء اردن کی وزارت توانائی اور معدنی وسائل کے ایک سرکاری ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ طرییبل سرحدی کراسنگ کے قریب مظاہروں کے نتیجے میں عراق کے رمادی علاقے میں عراقی تیل سے لدے متعدد ٹینکوں کو واپس کردیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے مطابق عراق اپنے علاقوں میں تیل سے لدے ٹینکوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔

ذرائع نے ایک سرکاری بیان میں بھی وضاحت کی جس کی ایک نقل العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہوئی ہے میں کہا گیا ہے کہ ان ٹینکوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے عراق کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ عراق سے درآمد کی جانے والی مقدار مملکت کی خام تیل اور پیٹرولیم ڈیریویٹیوز کی ضروریات کا صرف 7-10 فیصد ہے۔ ان ٹینکوں کی واپسی کا خام تیل اور پیٹرولیم ڈیریویٹیوز کی فراہمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

سعودی آرامکو کے ساتھ اردنی پیٹرولیم ریفائنری کے بڑے معاہدوں کی وجہ سے اردن کی خام تیل کی زیادہ تر ضروریات سعودی عرب سے لائی جاتی ہیں۔

ذریعے نے بتایا کہ خام تیل کا مملکت کا اسٹریٹجک ذخیرہ ملک کی ضروریات کے 44 دنوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں