غزہ کی گرافک تصاویر سے احساسِ جرم اور تشویش سے کیسے نمٹا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
14 منٹ read

جیسا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر سیکڑوں فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے تو بین الاقوامی شوروغوغا بلند ہونے کی امید میں غزہ کے باشندے مثلاً صحافی معتز عزایزہ اور یارا عید تباہی اور ہلاکتوں کے پیمانے کو ظاہر کرنے والے مناظر کو آن لائن پوسٹ کر رہے ہیں۔

بدھ تک اسرائیل کے بے لگام چھاپوں میں کم از کم 6,500 فلسطینی ہلاک ہو گئے جس سے دنیا صدمے اور غم میں ڈوب گئی۔

ایسی ویڈیوز بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ چھوٹے بچے تباہ شدہ عمارات کے ملبے کے نیچے سے نکالے جانے کے بعد صدمے میں مبتلا ہیں اور والدین اپنے مردہ بچوں کی خون آلود لاشوں پر رو رہے ہیں۔

لندن میں اپنے گھر پر نوحہ الچارانی خود کو دن میں کم از کم تین بار غزہ سے آنے والی دلگیر تصاویر پر روتے ہوئے پاتی ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے خود کو دور کرنے سے قاصر یہ نوجوان فلسطینی خاتون دنیا بھر کے ان کئی لوگوں میں سے ایک ہیں جو میلوں دور سے محصور انکلیو میں رونما ہونے والے انسانی بحران کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹس حاصل کر رہی ہیں۔

الچارانی نے العربیہ کو بتایا۔ "مجھے لگتا ہے کہ ہم سب کسی نہ کسی طرح کے ڈپریشن کے گرداب میں گر چکے ہیں جہاں آپ مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کر سکتے۔ یہ (مجھے محسوس ہوتا ہے) کہ انسانیت ناکام ہونے والی ہے اور یہ پہلے ہی فلسطینیوں کی بوقتِ ضرورت مدد نہیں کر رہی۔"

'ہمدردی کر کر کے تھک جانا' اور 'ثانوی صدمہ'

اگرچہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم لوگوں کو باخبر رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن ماہرینِ نفسیات نے خبردار کیا ہے کہ گرافک امیجز کی بار بار نمائش کی وجہ سے "ثانوی صدمے" کا سامنا کرنے والے لوگ اس چیز کا تجربہ کر سکتے ہیں جسے "ہمدردی کر کر کے تھک جانا" کہا جاتا ہے۔

کلینکل سائیکالوجسٹ اور کلیر مائنڈز سنٹر دبئی کی بانی ڈاکٹر نائلہ داؤ نے العربیہ کو بتایا کہ ہمدردی کر کر کے تھک جانا ثانوی صدمے کی ایک قسم ہے جس میں ایک شخص بالواسطہ طور پر دوسروں کے صدمات کو بار بار دیکھنے سے خود صدمے کا شکار ہو سکتا ہے۔

لوگ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں۔ (اَن سپلیش، رابن ورل)
لوگ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں۔ (اَن سپلیش، رابن ورل)

بار بار صدماتی واقعات دیکھنے سے افراد کو جذباتی اور جسمانی تھکن کا سامنا ہو سکتا ہے جسے "ہمدردی کی اذیت" کے طور پر شناخت کیا جا سکتا ہے – یعنی جب ہم دوسروں کی گہری فکر کرتے ہیں اور انہیں تکلیف دہ تجربات سے گذرتا دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے مصری شہری زینہ صالح نے کہا کہ تازہ ترین خبریں جاننے کی کوشش میں وہ گھنٹوں تک اپنے فون پر اسکرول کرتی رہتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ خبروں میں توانائی صرف نہ کروں لیکن یہ بہت مشکل ہے۔ یہ توانائی کو بہا لے جاتا ہے. ہر رات میں بس خبریں دیکھتی ہوں اور خوف اور بے بسی محسوس کرتی ہوں۔"

داؤ کے مطابق "وہ احساسات غیر معمولی نہیں ہیں۔"

طبی ماہرِ نفسیات نے کہا، "بطورِ انسان ہم - دوسروں سے کچھ زیادہ - دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنے اور ان کے لیے غمگین ہونے کی فطری صلاحیت رکھتے ہیں۔"

"جو لوگ تشدد سے براہِ راست متاثر نہیں ہوتے ہیں ان کے لیے بے بس اور بے چین ہونا بہت عام بات ہے۔ تشدد کا مشاہدہ یہاں تک کہ اسکرین پر بھی پریشانی اور دباؤ کی بلند سطحوں کا باعث بن سکتا ہے۔"

جرمن نیورو سائنس سینٹر کے کلینیکل سائیکولوجسٹ ڈاکٹر فابیان سارلوس کے مطابق ہمدردی کی تھکن ہمارے جسم میں لڑو یا بھاگ جاؤ والے نظام کو تیز کرتی ہے جس سے انسان کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہائی الرٹ پر ہوں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس ردِعمل کے نتیجے میں ایڈرینالین اور کورٹیسول کے اخراج کے ساتھ ساتھ سانس اور دل کی رفتار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس کیفیت کے دوران ہمارا دماغ یقین کرتا ہے کہ یہ ایک غیر محفوظ صورتِ حال میں ہے اور اس کے مطابق جواب دینے کی ضرورت ہے - بقا سے متعلقہ جذبات جیسا کہ اضطراب، غصہ، یا اداسی پیدا کر کے۔

اور جبکہ اسکرین کے ذریعے غزہ میں رونما ہونے والے المناک واقعات کو دیکھنے والے براہِ راست متاثر نہیں ہو سکتے لیکن دماغ اس ثانوی صدمے کا جواب دیتا ہے۔

احساسِ جرم اور علیحدگی

غزہ میں تشدد کے بڑھتے ہی کئی لوگوں نے جرم اور علیحدگی کے شدید احساس کی اطلاع دی ہے۔

ڈاکٹر سارلوس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ احساسِ جرم کے نتیجے میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی خاص صورتِ حال کا مناسب جواب نہیں دے رہے۔

چونکہ دنیا بھر کے لوگ غزہ میں رونما ہونے والے واقعات کو دیکھ رہے ہیں تو وہ متاثرین کو براہ راست امداد فراہم کرنے میں اپنی نااہلی پر پریشان ہو سکتے ہیں۔

 18 اکتوبر 2023 کو نیدرلینڈ کے ہیگ میں غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)
18 اکتوبر 2023 کو نیدرلینڈ کے ہیگ میں غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)

طبی ماہرِ نفسیات نے کہا کہ احساسِ جرم کی اذیت کے باوجود یہ عملی قدم اٹھانے کے لیے ایک طاقتور عمل انگیز کے طور پر کام کر سکتا ہے جو افراد کو اپنی برادریوں اور دنیا میں مثبت کردار ادا کرنے پر راغب کرتا ہے۔

داؤ نے کہا، کچھ لوگ یہ بھی محسوس کر سکتے ہیں کہ ان کی اپنی مشکلات اور جدوجہد اس تکلیف کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو وہ خبروں میں دوسروں کے ساتھ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بہت سے لوگ جب دوسروں کو ان کے گھر، زندگی اور خاندان کے افراد کو کھوتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ اپنی حفاظت، پناہ گاہ اور خوراک کی بنیادی ضروریات کے حوالے سے خود کو مجرم محسوس کر سکتے ہیں۔

صالح نے کہا کہ وہ بالکل اسی کیفیت کا سامنا کر رہی ہیں۔

صالح نے کہا۔ "شدید اضطراب کے شکار ایک شخص کے طور پر میں اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میرے تمام مسائل اور میری زندگی ابھی بالکل بھی اہم نہیں ہیں۔ اس کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں ہے جو حقیقت میں وہاں (فلسطین میں) ہو رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میرے مسائل بہت کم ہیں۔ میں تصور نہیں کر سکتی کہ اگر میں یہ سب محسوس کر رہی ہوں تو غزہ کے لوگ کیسا محسوس کر رہے ہوں گے۔"

احساسات اور جذبات سے نمٹنا

داؤ نے وضاحت کی، ایسے جذبات و احساسات سے دو طریقوں سے نمٹا جا سکتا ہے۔

لوگوں کو سب سے پہلے صورتِ حال کے حوالے سے اپنے جذبات کو قبول اور محسوس کرنا چاہیے جو کسی معالج یا اپنی کمیونٹی کے لوگوں سے بات کر کے کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، "ایک طبی ماہرِ نفسیات کے طور پر میں ان کو غم اور اداسی کے اظہار کی سہولت فراہم کرتی ہوں جو وہ حالات کو دیکھنے سے محسوس کرتے ہیں۔ میں ان کے تمام جذبات کو تسلیم اور ان کی توثیق بھی کرتی ہوں کیونکہ یہ جذبات نارمل اور انسانی ہیں۔"

جذبات کو محسوس اور ان کا اشتراک کرکے اور اس کے نتیجے میں ان جذبات کی توثیق کر کے لوگ مدد کے لیے ممکنہ طریقے تلاش کر سکتے ہیں جیسے بیداری پھیلانا یا عطیہ دینا۔

انہوں نے کہا۔ "اس طرح سے لوگ ہمدردی کی تکلیف سے ہمدردی کی تشویش کی طرف جاتے ہیں۔"

دوم، احساسِ جرم کا شکار لوگوں کے لیے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ان کی زندگی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا ہر کسی کی ہے۔

داؤ نے کہا۔ "اگرچہ ان کی زندگی زیادہ محفوظ اور آرام دہ ہے لیکن ان کی زندگی برابر اہم ہے اور ان کے حلقوں میں دوسروں کی زندگیوں سے منسلک ہے۔"

ریم کروش کے لیے کچھ مناظر دیکھنے میں مشکل ہیں، اس کے باوجود احساسِ جرم انہیں گردش کرتی پریشان کن فوٹیج دیکھنے پر مجبور کر رہا ہے۔

مذکورہ مصری شہری نے العربیہ کو بتایا۔ "مجھے یہ ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ میں خود کو گردش کرتی دلدوز ویڈیوز دیکھنے پر مجبور کروں۔ (میں خود سے کہتی ہوں) نظر نہ ہٹاؤ، تم تو اسے (بس) دیکھ رہی ہو لیکن وہ اسے جی رہے ہیں۔' مجھے جرم اور مایوسی کا احساس ہوتا ہے۔"

سارلوس کے مطابق دوسروں کو تکلیف میں دیکھ کر مجرم محسوس کرنا اور مدد کرنے سے قاصر ہونا انسان ہونے کا حصہ ہے۔ افراد کو خود کو گرافک ویڈیوز دیکھنے پر مجبور کرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ انہیں بہت پریشان کن لگیں۔

انہوں نے وضاحت کی۔ "تاہم انہیں اب بھی جرم کے بنیادی احساسات کو دور کرنا چاہیے۔ بصورت دیگر یہ بڑھتا رہے گا۔"

انہوں نے کہا۔ "پریشان کن تصاویر دیکھنے کی خواہش نہ ہونا درست ہے۔ تاہم بنیادی مسئلہ اب بھی متعلقہ ہے اور اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔"

"یہ صرف ایک باپ کی تصویر نہیں جو اپنے مردہ بچے کی باقیات کو تھیلے میں لے جا رہا ہے جو ہمیں تکلیف دیتی ہے بلکہ اس سے زیادہ تکلیف دہ معصوم جانوں کا ضیاع اور لوگوں کو اذیت میں مبتلا دیکھنا ہے جبکہ ہم براہِ راست مدد یا تسلی دینے کے قابل نہ ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم انسان نہ صرف یکساں جذباتی صلاحیتوں کے اشتراک بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یکساں انسانی اقدار کی بنا پر متحد ہوتے ہیں اور یہ بالکل وہی ہیں جو ایسے واقعات کو دیکھ کر حتیٰ کہ ذہنی طور پر صرف اس اذیت کے بارے میں سوچ کر بھی گہرائی سے کانپ جاتے ہیں۔"

مقابلے کا لائحۂ عمل

دونوں ماہرینِ نفسیات نے تکلیف دہ واقعات کو دیکھنے کے جذباتی اثرات کے جواب میں مقابلہ کرنے کا قیمتی لائحہ عمل پیش کیا۔

تحقیق اور غوروغوض ضروری ہے اور دوسروں کے ساتھ جذبات اور خیالات پر بات کرنے کے لیے ایک محفوظ جگہ فراہم کر کے ایسا کیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ دوسروں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔

سارلوس نے کہا۔ "تحقیق اور غوروغوض ضروری ہے۔ تکلیف دہ صورت حال پر نہیں بلکہ اس بات پر جو یہ ہمارے ساتھ کرتا ہے یعنی ہم اس کی وجہ سے کیسا محسوس کرتے اور سوچتے ہیں تاکہ اس کو تسلی اور مدد دی جائے اور ممکنہ طور پر حل کیا جا سکے؛ کیونکہ ہم انفرادی حیثیت کے مقابلے میں متحد ہو کر زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ذاتی نگہداشت کی حکمتِ عملی جیسے کہ جسمانی سرگرمی، جسمانی صحت کو برقرار رکھنا، مشاغل میں مشغول ہونا، اور روحانیت کو تلاش کرنا کسی کی ذات کو مضبوط اور جذباتی خود ضبطگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔

داؤ نے مزید کہا، گرافک امیجز اور ویڈیوز تک اپنی رسائی کو محدود کرنا بھی ضروری ہے۔

ان کے مطابق ہم کسی ویڈیو کو چھوڑنے پر مجرم محسوس کرتے ہیں کیونکہ ہم بحیثیت انسان اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں کہ دوسروں کے دکھ کو تسلیم کریں اور ان کے درد کو اہمیت دیں۔

تاہم ہمارے تحفظِ ذات کے ایک حصے نے محسوس کیا ہے کہ ہمارا اعصابی نظام مغلوب ہے اور مزید تکلیف دہ چیزوں کو سنبھال نہیں سکتا۔

کلیئر مائنڈز سینٹر کی بانی نے کہا۔ "میں اس بات پر کافی زور نہیں دے سکتی کہ اپنے جسموں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا بہت ضروری ہے جب ہم سکرین پر دیکھی گئی چیزوں سے پریشان یا مغلوب ہوں۔ جب ہم ایسا محسوس کریں تو خبروں سے وقفہ لینا ضروری ہوتا ہے۔"

"اپنے آلات کو نیچے رکھ دیں، گہری سانسیں لیں، ایسا کام کریں جو آپ کو پرسکون ہونے اور متوازن محسوس کرنے میں مدد دے۔ لوگ خبریں حاصل کرنے اور مسلسل پریشان کن باتوں سے بچنے کے لیے اپنے دن کے کچھ حصوں کا انتخاب کر سکتے ہیں۔"

داؤ کی طرف سے مقابلہ کرنے کے کچھ دوسرے لائحہ عمل اس طرح ہیں:

پریشان کن ویڈیوز کی نمائش کو محدود کریں۔ کوشش کریں کہ ویڈیوز تک مسلسل رسائی نہ ہو۔ آپ باخبر رہنے کے لیے خبریں پڑھ بھی سکتے ہیں جو ممکنہ طور پر ویڈیوز کے مقابلے میں کم پریشان کن ہے۔

تکلیف کے اپنے جسم کے اشاروں پر توجہ دیں (دل کی تیز رفتار، چہرے پر خون جمع ہو جانا، سانس لینے میں تبدیلی وغیرہ)۔

جب آپ جذباتی طور پر بہت مغلوب محسوس کر رہے ہوں تو ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہوں جو آپ کے لیے پرسکون اور توازن کا احساس دوبارہ پیدا کرنے میں مدد کریں۔

سماجی طور پر لوگوں سے رابطے میں رہیں اور واقعات سے پیدا ہونے والے اپنے احساسات کے بارے میں بات کریں۔

حقیقت پسندانہ توقعات قائم کریں کہ آپ تنہا کسی صورتِ حال کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ ان چیزوں پر توجہ مرکوز کریں جن پر آپ اپنی زندگی اور کمیونٹی میں اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اپنی کمیونٹی کے وسائل سے آگاہ رہیں جیسے کہ مشاورتی خدمات یا سپورٹ گروپس۔ مثلاً کلیئر مائنڈز ہر اس شخص کے لیے ایک مفت سپورٹ گروپ چلا رہا ہے جو تکلیف دہ واقعات سے نمٹنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔

اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں اور معمولات کو برقرار رکھیں جو آپ کو پرسکون رکھنے میں اور آپ کے پریشان کن جذبات سے نمٹنے میں مدد کر سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں