اسرائیلی حکومت کے ترجمان کا غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد پر شک کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے جمعرات کو غزہ کی پٹی میں فلسطینی حکام کی فراہم کردہ ہلاکتوں کی تعداد کی درستگی پر سوال اٹھایا اور حماس پر تعداد بڑھانے کا الزام لگایا۔

العربیہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے عرب میڈیا کے ترجمان اوفیر گینڈل مین نے عرب اور مغربی میڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ انکلیو کو کنٹرول کرنے والے عسکریت پسند گروپ کے جاری کردہ اعداد و شمار پر یقین نہ کریں۔

انہوں نے العربیہ کو بتایا۔ "یہ ڈیٹا کہاں سے آتا ہے؟ یہ وزارتِ صحت کی طرف سے ہے جو حماس کی وزارتِ اطلاعات اور حماس سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد ترجمان سے احکامات لیتی ہے۔ کوئی آزاد ڈیٹا نہیں ہے۔"

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آیا ان کے خیال میں بین الاقوامی تنظیموں یا اقوامِ متحدہ کی طرف سے شائع ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد درست ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ سب حماس کے احکامات کے تابع ہیں۔

"وہ حماس سے خوفزدہ ہیں۔ کئی معاملات میں کام کرنے والی ٹیمیں حماس سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں پر مشتمل ہیں۔"

ان کے تبصرے امریکی صدر جو بائیڈن کے ملتے جلتے دعوے کے ایک دن بعد سامنے آئے ہیں۔

بائیڈن نے بدھ کے روز کہا تھا کہ انہیں حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی پٹی میں ہلاکتوں کی "اس تعداد پر کوئی اعتماد نہیں جو فلسطینی استعمال کر رہے ہیں۔"

بائیڈن سے وائٹ ہاؤس کی ایک پریس کانفرنس میں پوچھا گیا کہ ہلاک شدگان کی تعداد جو 7,000 سے تجاوز کر چکی ہے اور اس میں 2,700 سے زیادہ بچے شامل ہیں، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل ساحلی انکلیو پر بمباری میں شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے امریکی اپیلوں کو نظر انداز کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا۔ "وہ مجھ سے جو کچھ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے کہ فلسطینی سچ کہہ رہے ہیں کہ کتنے لوگ مارے گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ بے گناہ ہلاک ہوئے ہیں اور یہ جنگ چھیڑنے کی قیمت ہے۔"

بائیڈن نے مزید کہا۔ "اسرائیلیوں کو اس بات کا یقین کرنے کے لئے ناقابلِ یقین حد تک محتاط رہنا چاہئے کہ وہ ان لوگوں کے پیچھے جانے پر توجہ دے رہے ہیں جو اس جنگ کا پروپیگنڈہ اسرائیل کے خلاف کر رہے ہیں۔ اور جب ایسا نہیں ہوتا تو یہ ان کے مفاد کے خلاف ہوتا ہے۔"

گینڈل مین کے ساتھ براہِ راست انٹرویو کے دوران العربیہ کو اطلاعات موصول ہوئیں کہ غزہ میں وزارتِ صحت نے 7000 سے زائد مبینہ متاثرین کے نام اور شناختی نمبر جاری کیے تھے جو اسرائیل کی جانب سے پٹی پر تازہ ترین بمباری کے بعد سے مارے گئے تھے۔

جواب میں گینڈل مین نے "ثبوت" کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، "یہ ناموں اور شناختی نمبروں کی فہرست ہے لیکن لاشیں کہاں ہیں؟ ثبوت کہاں ہے؟ ہم آپ کو 10,000 نام اور 100,000 نام فراہم کر سکتے ہیں لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ہلاک ہو گئے۔"

گینڈل مین نے پھر حماس پر "مسلسل جھوٹ بولنے" کا الزام لگایا جب اسرائیل کے اس دعوے کے بارے میں شکوک کو مسترد کرنے کا سوال کیا گیا کہ اسرائیل میں 1,400 افراد مارے گئے تھے۔

ترجمان نے کہا۔ "حماس جھوٹ بولتی ہے۔ حماس اپنی کہانیوں کی تائید کے لیے حقائق (اپنی مرضی سے) تراشتی ہے۔"

جب بتایا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے اسرائیلی حکومت پر ایسا ہی کرنے کا الزام لگایا ہے تو گینڈل مین نے دونوں پر حقائق تراشنے کا الزام لگایا اور ان کی صداقت پر سوال اٹھایا۔

انہوں نے العربیہ کو بتایا، "فلسطینی اتھارٹی قابلِ اعتبار نہیں۔ حماس تعداد بڑھا رہی اور کہہ رہی ہے کہ تمام مرنے والے عام شہری تھے۔"

22 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے الاستال خاندان کے فلسطینیوں کی آخری رسومات کے دوران ایک سوگوار شخص بچے کی لاش لیے جا رہا ہے۔ (رائٹرز)
22 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے الاستال خاندان کے فلسطینیوں کی آخری رسومات کے دوران ایک سوگوار شخص بچے کی لاش لیے جا رہا ہے۔ (رائٹرز)

انہوں نے بات کو جاری رکھا اور پوچھا، "کتنے دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں؟ کیا حماس نے اپنے کسی دہشت گرد کی ہلاکت کا اعتراف کیا؟ نہیں، کیونکہ یہ تمام ہلاکتوں کو معصوم شہریوں کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

گینڈل مین نے یہ بھی کہا کہ فلسطینیوں کی ہلاکتوں پر اسرائیل کے بجائے حماس کو معافی مانگنی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں