اسرائیلی خاتون نےاپنے اغوا کار سے مصافحہ کیوں کیا؟ بیٹی نے وجہ بتا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حال ہی میں غزہ میں حماس کی قید سے رہا ہونے والی دو خواتین میں سےایک کی طرف سے اپنے اغوا کار سے ہاتھ ملانے اے واقعے پوری دنیا کے میڈیا میں زیر بحث ہے۔

سولہ دن بعد رہائی پانے والی خاتون نے حماس کے ایک مسلح رکن کا ہاتھ تھاما اور اس سے ہاتھ ملایا اور اسے ‘شیلوم‘ کہہ کر اس کا شکریہ ادا کیا۔

چونکہ اس متنازع واقعے پر اسرائیلی میڈیا سیخ پا ہے اور حماس کے جنگجو سے مصافحے کو حماس کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی کو متاثر کرنے کے پہلو سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔

وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں رہا ہونے والی 85 سالہ اسرائیلی خاتون یوشیویڈ لیفشٹز کی رہائی کے پہلے لمحات کو دکھایا گیا تھا۔ اس کے ارکان نے 7 اکتوبر کو حراست میں لیا تھا اور اسرائیل میں تنقید کی ایک لہر کو ہوا دی تھی۔

اس حوالے سے رہا ہونے والی خاتون کی بیٹی نے حماس کے جنگجو کے ساتھ مصافحے کی وجہ بیان کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی ماں نے اپنے اغوا کار کے ساتھ یہ برتاؤ اس لیے کیا کیونکہ قید کے دوران انہوں نے بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کیا تھا۔

مسلح طبیب

شیرون لفشٹز نے انکشاف کیا کہ "اغوا کرنے والا ایک پیرامیڈک تھا جس کے ساتھ اس کی ماں نے پرسکون اندازمیں امن پر بات کی"۔

اس کے مطابق بہ ظاہر اسی لیے اس نے اس سے ہاتھ ملایا۔ اس نے بتایا کہ اس کی ماں نے اسے بتایا کہ یہ شخص ایک پیرامیڈک تھا جس نے اس کی قید کے دوران اس کی دیکھ بھال کی اور دونوں نے مل کر انگریزی اور ٹوٹی پھوٹی عبرانی میں امن پر تبادلہ خیال کیا۔

اس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کی ماں کے "اس کے اغوا کاروں کے بارے میں تبصرے کو یرغمالیوں کی حالت زار سے نہیں ہٹنا چاہیے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے ہمیشہ انسانیت پر یقین رکھا ہے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ حماس کے اندر مختلف اکائیاں ہیں، یہ کہ جن لوگوں نے اسے اغوا کیا وہ وہی نہیں ہیں جنہوں نے اس کی دیکھ بھال کی۔ انہوں نے کیبوتیز میں جو بھیانک جرائم کیے گئے تھے انہیں کسی بھی چیز سے مٹایا نہیں جا سکتا‘‘۔

رہائی پانے والا اسرائیلی قیدی (آرکائیو - ایسوسی ایٹڈ پریس)
رہائی پانے والا اسرائیلی قیدی (آرکائیو - ایسوسی ایٹڈ پریس)

اس کے علاوہ اس نے مزید کہا کہ انہیں اپنی والدہ پر بہت فخر ہے جو چند روز قبل غزہ کی سرنگوں سے نکل کے آئیں۔ یہ دیگر قیدیوں کے اقارب کے لیے تسلی کا باعث ہے۔

لندن میں مقیم ایک فنکار اور ماہر تعلیم شیرون نے تصدیق کی کہ ان کی والدہ، جو ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہیں، کئی کلو وزن کم کرنے کے بعد اپنی آزمائش سے تھوڑی سی اداس ہو کر ابھری ہیں۔ وہ بقیہ قیدیوں کے خاندانوں کے لیے کچھ امیدیں دلانے کے لیے پرعزم ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈین نے بتایا کہ رہا ہونے والی خاتون کا کہنا تھا کہ وہ غزہ میں قید سے نکل آئی لیکن اس کا دل باقی یرغمالیوں کے ساتھ ہے۔

ان کے بیٹے نے کہا کہ "میری والدہ واقعی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور وہ ہر روز بہتر ہو رہی ہیں۔ وہ بقیہ یرغمالیوں کی واپسی پر بہت توجہ مرکوز رکھتی ہیں، کیونکہ یہ ان کی پہلی ترجیح ہے"۔

خیال رہے کہ سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں حماس کی طرف سے اسرائیل پر کیے گئے اچانک حملے میں 1400 اسرائیلی ہلاک اور دوسوسے زاید افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ حماس اب تک ان یرغمالیوں میں سے چار کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کرچکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں