اسرائیل کی القدس پر گرفت مضبوط، مسجد اقصیٰ جمعہ کی نماز میں خالی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آج جمعہ کے روز اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے مسجد اقصیٰ نمازیوں سے خالی رہی۔

مسجد اقصیٰ میں نماز ادا نہ ہونے کی ایک وجہ گذشتہ اکیس روز سے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی حملے ہیں۔ حالانکہ مسجد اقصیٰ میں عموماً ہزاروں لوگ نماز جمعہ ادا کرتے ہیں جب کہ مخصوص مذہبی ایام میں یہاں نمازیوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے جمعہ کے روز اطلاع دی ہے کہ مسجد اقصیٰ میں صرف معمر نمازیوں کی ایک چھوٹی سی تعداد پہنچی۔

نامہ نگار نے بتایا کہ اسرائیل نے صرف 75 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ہی حرم قدسی میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ جب کہ نوجوانوں یا پچاس سے زائد افراد کو داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ یروشلم بھر میں پھیلی چوکیوں کی وجہ سے مسجد تک جانے میں نمازیوں کو شدید دشواری کا سامنا ہے۔

تقریبا خالی

نامہ نگار نے بتایا کہ مسجد اقصیٰ کی طرف جانے والے تمام داخلی راستوں کو پولیس فورسز نے بند کر دیا تھا اور مسجد اور یروشلم کے پرانے محلوں کے ارد گرد بڑے پیمانے پر چوکیاں قائم کی گئی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسجد کے اطراف کی گلیاں تقریباً خالی ہیں۔

یروشلم میں سیکورٹی تعینات (اے ایف پی)
یروشلم میں سیکورٹی تعینات (اے ایف پی)

اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر اب تک تیسرے ہفتے سے جنگ جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں بھی اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید اور سیکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں