شام میں حماۃ شہر پر بھی ڈرون حملے، پہلے ادلب نشانہ بنا تھا

شامی فوج اور اپوزیشن کی حامی فورسز کے ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں ادلب کے بعد ایک اور شہر حماۃ پر بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق شامی فوج نے جمعرات کے روز آٹھ ڈرون مار گرائے ہیں۔ ان ڈرونز کی وجہ سے تین شامی ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

شامی فوج کا کہنا ہے کہ ادلب شہر سے اڑان بھرنے والے ڈرونز کی زد میں حماۃ کے کئی دیہات آگئے۔ دوسری جانب شامی باغیوں نے کہا ہے کہ اس سے پہلے شامی فوج کے راکٹ حملے میں کم از کم چار افراد مارے گئے تھے۔

شام کی فوج نے حکومت کے حلب اور ادلب میں زیر قبضہ علاقوں پر حملے کرنے کا الزام اپوزیشن کی حامی فورسز پر لگایا ہے۔ شامی فوج اس امر کی تردید کرتی ہے کہ اس کی طرف سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پرگولہ باری کی جاتی ہے۔

تاہم امدادی کارکنوں اور حملوں کے متاثرہ علاقوں کے شہریوں کا کہنا ہے کہ روسی جیٹ طیاروں مدد سے شامی حکومت تین ہفتوں سے اپوزیشن کے علاقوں پر بمباری کر رہی ہے۔

واضح رہے ترکیہ کے حمایت یافتہ مسلح گروپوں اور حیات التحریر الشام کے مسلح جنگجووں کے کنٹرول اپوزیشن کا آخری گڑھ ہے۔

امدادی کارکنوں کے مطابق منگل کے روز روسی طیاروں کے حملے کے نتیجے میں کم از کم پانچ لوگ مارے گئے تھے۔ ان روسی طیاروں نے اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقے میں بے گھر شامیوں کے کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

شام کی اپوزیشن جماعتوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے شروع سے ہی شام کی سرکاری فوج اور اس کے روسی حامی مخالفین کے زیر قبضہ قصبوں اور دیہات پر حملے کر کے کم از کم 60 افراد کو ہلاک کر چکے ہیں۔ جس کے بعد ترکیہ کی سرحد کی طرف نقل مکانی بھی شروع ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں