مشرق وسطیٰ

قطر نے حماس کا دوحہ میں سیاسی دفتر بند کرنے کا اشارہ دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خفیہ فرمائش کے نتیجے میں قطر نے حماس کی اپنے ہاں موجودگی ختم کرنے اور حماس کی میزبانی سے دستبردار ہو جانے کے حوالے عندیہ دے دیا ہے ؟

اس سلسلے میں امریکہ پیغام دیا گیا ہے کہ غزہ سے مغویان کی محفوظ رہائی کے بعد حماس کے حوالے اپنی میزبانی کا معاملہ از سر نو دیکھنے کو تیار ہے۔ یہ بات امریکہ کے سینیرذ ذمہ دار نے جمعہ کے روز بتائی ہے۔

امریکہ اور قطر کے درمیان اس اتفاق کے بارے میں پہلے واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسی مہینے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی دوحہ میں قطری حکام کے ساتھ ملاقات اس بارے میں افہام وتفہیم ہو گیا تھا۔

تاہم قطری حکام نے فوری طور پر اس بارے میں کوئی تبصرہ کیا ہے نہ اس رپورٹ پر کوئی رد عمل ظاہر کیا ہے۔

دوسری جانب خلیجی ممالک امریکہ کے ساتھ غزہ میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں اور دوسرے ملکوں کے لوگوں کی محفوظ رہائی کے لئے رابطے میں ہیں۔ ان مغویان کی تعداد 200 کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ اب تک جو حماس کی قید سے رہائی پانے والے افراد قطر کی کوششوں اور حماس کے مؤثر رابطوں کے باعث ممکن ہوئی ہے۔ چار مغویوں کی رہائی کے لئے حماس کے ساتھ قطر ہی مذاکرات کرتا آیا ہے۔

بدھ کے روز قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبداالرحمان آل ثانی نے کہا تھا خلیج کے اس ملک کے مذاکرات مغویان کی رہائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی تھی جلد بڑا بریک تھرو ہو جائے گا۔

خیال رہے حماس نے دوحہ میں اپنا سیاسی دفتر 2012 میں کھولا تھا۔ اس دفتر میں اسماعیل ہنیہ اور سابق سربراہ خالد مشعل باقاعدہ وقت دیتے رہے ہیں۔ امریکہ حماس کے اس دفتر کے بارے میں کہتا آیا ہے کہ اسے بند کیا جائے۔

اب امریکہ کی اس مطالبے کا جواب مل گیا ہے، تاہم اس بارے می ابھی کوئی تاریخ متعین نہیں کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں