مشرق وسطیٰ

مقتدی الصدر کو عراق میں امریکی سفارت خانہ قبول نہیں

عراقی حکومت اور پارلیمان کو سفارت خانہ بند کرنے کا کہہ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے اہم شیعہ عالم اور رہنما مقتدی الصدر نے عراق میں امریکی سفارت خانہ بند کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ الصدر کی طرف سے یہ مطالبہ عراقی حکومت اور عراقی قانون سازوں سے جمعہ کے روز کیا گیا ہے۔

مقتدی الصدر کا یہ مطالبہ امریکی غزہ کے خلاف اسرائیلی جنگ میں اسرائیل کا بھرپور اور ہر طرح کا ساتھ دینے کے بعد کیا گیا ہے۔

شیعہ رہنما نے اپنے اس مطالبے کے ساتھ یہ دھمکی بھی دے دی ہے کہ اگر حکومت اور پارلیمنٹ نے اس سلسلے کچھ نہ کیا تو وہ مزید اگلے اقدام کے لئے خود سوچیں گے۔“

مقتدی الصدر عراق میں لاکھوں کی تعداد میں پیروکار رکھتے ییں۔ وہ ماضی میں یہ ثابت کر چکے ہیں کہ وہ اپنی کال پر یا اپنی حمایت میں لاکھوں کو جب چاہیں سڑکوں پر لا سکتے ہیں۔

دلچسپ بات ہے کہ محض ایک روز پہلے ایرانی عدالت نے 1980 کے امریکی سفارت خآنے کے یرغالیوں کے لئے کئے گئے ناکام امریکی آپریشن پر امریکہ کو 420 ملین کا جرمانہ کیا ہے۔ اسی یا اگلے روز عراق سے میں بھی اسی طرح کی بالواسطہ دھمکی دے دی ہے۔

الصدر نے ایران کے عراق میں اثر ونفوذ کی بھی مخالفت کی ہے۔

عراق کی گلیوں میں مقتدی الصدر نے اپنی طاقت کا ایک مظاہرہ ۔پچھلے سال بغداد میں کیا تھا۔ اسی طرح سویڈن میں قرآن مجید جلانے کے واقعے کے خلاف بھر پور احتجاج کی کال دی تھی؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں