یرغمالیوں کی تلاش: اسرائیل کا بدنام زمانہ جاسوسی سافٹ ویئرکمپنیوں سے مدد لینےکاانکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں فلسطینی دھڑوں کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں جن کی تعداد 224 بتائی جاتی ہے تل ابیب کے لیے سب سے نمایاں اور پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔

جاسوسی کے پروگرام

غزہ میں قید اپنے شہریوں کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے اسرائیل ہمہ جہت پہلوؤں سےکام کررہا ہے۔

بلومبرگ نے اسرائیلی سکیورٹی سروسز کے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے غزہ میں قیدیوں کا سراغ لگانے میں مدد کے لیے متنازعہ "پیگاسس" پروگرام بنانے والی کمپنی سمیت سپائی ویئر بنانے والی کمپنیوں سے مدد طلب کی گئی ہے۔

سائبرسکیوریٹی انڈسٹری کے چار ذرائع اور اسرائیلی حکومت کے ایک اہلکار نے اطلاع دی کہ حکام نے NCO گروپ اور کینڈرو کمپنی سے، جو دونوں امریکا میں بلیک لسٹ ہیں سے کہا کہ وہ ملک کی سکیورٹی فورسز کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی اسپائی ویئر کی صلاحیتوں کو تیزی سے تیار کریں۔

ذرائع نے جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پرمزید کہا کہ مذکورہ کمپنیاں کئی دیگر سافٹ ویئر کمپنیوں کے ساتھ اسرائیلی حکام کی درخواست پر تعاون کر رہی ہیں اور اپنی خدمات بڑی حد تک مفت فراہم کر رہی ہیں۔

جب کہ اسرائیلی وزارت دفاع نے فوری طور پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ اسرائیلی فوج اور پیگاسس پروگرام بنانے والے این سی او نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

درایں اثناء کینڈرو نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ وہ "کسی بھی طرح سے درکار جنگی کوششوں" میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے‘‘۔ تاہم اس نے اس کی مزید تفصیل بیان نہیں کی۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق "RayZone" اور "Pargon" کمپنیاں بھی مدد فراہم کر رہی ہیں، جس نے سب سے پہلے اسپائی ویئر کمپنیوں کے حکام کے استعمال سے متعلق معلومات شائع کی تھیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ جولائی 2021 میں ایک بین الاقوامی تحقیقات میں 50,000 سے زائد ناموں کی فہرست سامنے آئی تھی جن کی “Pegasus” سسٹم کے ذریعے جاسوسی کی گئی تھی، جن میں سربراہان مملکت، صحافی اور اسرائیلی حکومت کے مخالفین شامل تھے۔

تحقیقات سے پتا چلا کہ صنعت کار نے یہ پروگرام دنیا بھر کے ڈکٹیروں اور حکومتوں کو فروخت کیا۔

موبائل فون پر انسٹال ہونے کے بعد پیگاسس پیغامات، ڈیٹا، تصاویر اور رابطوں اور فون کالز کی ریکارڈنگ کے ساتھ مائیکروفون اور کیمرہ کی ریموٹ ایکٹیویشن تک رسائی بھی آسان بنا دیتا ہے جس سے صارف کا انتہائی حساس ڈیٹا بھی غیر محفوظ ہوجاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں