مشرق وسطیٰ

اسرائیل کا ’وائٹ فاسفورس‘ گرا کر غزہ میں زمینی حملے کا تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سات اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے بعد غزہ کی پٹی میں رات گئے اب تک کے سب سے زیادہ پرتشدد لمحات دیکھے گئے ہیں۔ کیونکہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر بڑے پیمانے پر فضائی، زمینی اور سمندری اطراف سے حملے شروع کر رکھے ہیں۔

اسرائیل نے شمالی اور جنوبی غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں پر پرتشدد حملے اور تباہ کن بمباری شروع کی۔ شمالی غزہ میں زیادہ مہلک رفتار سے بمباری کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی فوج نے زمینی دستے بھی غزہ کی پٹی میں گھسنے کی اطلاعات ہیں اور فوج نے باضاطہ حملے کے لیے پیش قدمی کی تیاری کر لی ہے۔ اس تیاری کے ضمن میں رات گئے اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں حماس کی سرنگوں پر وائٹ فاسفورس سے حملے کیے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ ان حملوں کا مقصد غزہ کی پٹی پر زمینی چڑھائی کا تجربہ کرنا ہے۔

العربیہ/الحدث کے مشیر برائے عسکری امور ریاض قہواجی نے سنیچر کے روز ایک وضاحت میں کہا ہے کہ رات کو غزہ میں جو کچھ ہوا وہ اسرائیلی فوج کی یونٹوں کی طرف سے ایک ’ٹیسٹ‘ تھا۔ وہ غزہ میں زمینی کارروائی سے قبل کچھ تجربات کرنا چاہتے ہیں تاکہ حماس کے زیر زمین ٹھکانوں کو تباہ کیا جا سکے۔

قہواجی کے مطابق اس تجربے کا مقصد سرنگوں تک پہنچنا ہے، جہاں فوجی کمانڈ کے مراکز، میزائل اور جارحانہ ہتھیار موجود ہیں۔

حماس لڑائی کے لیے پرعزم

دریں اثناء حماس نے سنیچر کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ میں اس کے جنگجو اسرائیلی فوج کے فضائی اور زمینی حملوں میں توسیع کے بعد "مکمل طاقت" کے ساتھ اسرائیل کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

غزہ سے تباہی کے مناظر: اے ایف پی
غزہ سے تباہی کے مناظر: اے ایف پی

حماس نے کہا کہ "القسام بریگیڈ اور دیگر تمام مزاحمتی دھڑے دراندازیوں کا مقابلہ کرنے اور اسے ناکام بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔" انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کوئی فوجی کامیابی حاصل نہیں کر سکیں گے۔

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے جمعہ کو رات دیر گئے اطلاع دی کہ اس کے جنگجوؤں کی اسرائیلی فوج کے ساتھ شمال مشرقی غزہ کے قصبے بیت حنون اور وسطی پٹی میں بریج میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

کیا زمینی یلغار شروع ہو گئی ہے؟

اسرائیلی فوج کے ترجمان ایڈمرل ڈینیئل ہاگری کی جانب سے کل شام ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ زمینی افواج نے اپنی کارروائیوں میں توسیع کر دی ہے۔ یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا طویل انتظار کے بعد زمینی حملہ شروع ہو گیا ہے؟۔

غزہ پر سرحدی باڑ کے قریب اسرائیلی فوجی: اے ایف پی
غزہ پر سرحدی باڑ کے قریب اسرائیلی فوجی: اے ایف پی

انہوں نے مزید کہا کہ فضائیہ نے حماس کی طرف سے کھودی گئی سرنگوں اور دیگر انفراسٹرکچر پر شدید حملے کیے ہیں۔

سفید فاسفورس

دریں اثنا مرکز اطلاعات فلسطین نے ہفتے کو علی الصبح اطلاع دی کہ اسرائیلی طیاروں نے وسطی غزہ پر سفید فاسفورس بم برسائے۔

غزہ پر ہوائی اور زمینی راستے سے ہونے والی پرتشدد بمباری کے بعد ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں اور فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے اعلان کیا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس منقطع کر دی گئی ہے۔

ہلال احمر نے کہا کہ اس کے غزہ میں اپنے آپریشن روم کے ساتھ ساتھ وہاں کام کرنے والی ٹیموں کے ساتھ تمام مواصلاتی رابطے مکمل طور پر منقطع کر دیے ہیں۔

جبکہ پٹی میں حماس کے زیرانتظام حکومت نے اعلان کیا ہے کہ امدادی ٹیمیں ہنگامی رابطہ نہیں کر سکتیں۔

"مکمل وقفہ"

دوسری طرف فلسطینی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی (Paltel) جو غزہ میں وائرڈ اور وائر لیس مواصلات کی سب سے بڑی فراہم کنندہ ہے نے تصدیق کی کہ "پٹی کے ساتھ تمام مواصلاتی اور انٹرنیٹ خدمات کو بند کر دیا گیا ہے "۔

کمپنی نے بتایا کہ وہ کچھ فلسطینی ساتھیوں تک پہنچنے سے قاصر ہے اور "مریضوں، طبی عملے اور الشفا ہسپتال اور دیگر صحت کی سہولیات میں پناہ لینے والے ہزاروں خاندانوں کے لیے خاص تشویش کا اظہار کیا"۔

"خوف کی رات"

اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسیف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے انکشاف کیا کہ تنظیم اب غزہ میں اپنے ملازمین کے ساتھ رابطے کے قابل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میں ان جنگ زدہ بچوں کی حفاظت اور غزہ میں دس لاکھ بچوں کے لیے ناقابل بیان وحشت کی ایک اور رات کے لیے گہری فکر مند ہوں"۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ "تمام انسانی ہمدردی کے کارکنان اور ان بچوں اور خاندانوں کی حفاظت کی جانی چاہیے جن کی وہ خدمت کرتے ہیں"۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ محصور اور گنجان آباد پٹی پر پرتشدد بمباری کے علاوہ مواصلاتی رابطے اور انٹرنیٹ کا منقطع ہونا ایک بڑی تباہی ہے کیونکہ یہ طبی ٹیموں اور ایمبولینسوں کے درمیان رابطے اور زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کی کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

اس اقدام نے ہزاروں فلسطینیوں کو مایوسی اور پریشانی کی گہرائیوں میں بھی دھکیل دیا ہے کیونکہ وہ اپنے اہل خانہ کا پتا چلانے کے لیے ایک دوسرے سے بات کرنے اور رابطوں سے بھی قاصر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں