عراقی عسکریت پسندوں کے امریکی فوج کے التنف بیس پر ڈرون حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں مسلح گروپوں نے التنف امریکی فوجی اڈے پر ایک بار پھر ڈرون سے حملہ کیا ہے۔ شامی میڈیا کے مطابق یہ حملہ اپنی نوعیت کا چند گھنٹوں میں اس فوجی بیس پر دوسرا ڈرون حملہ ہے۔

امریکی فضائی دفاع میں دراندازی

مشرقی شام کے باخبر مقامی ذرائع نے بتایا کہ کم از کم دو ڈرونز نے جمعہ/ہفتہ کی رات کو حمص گورنری کے دیہی علاقوں میں 55 کلومیٹر کے علاقے میں واقع "التنف" اڈے پر امریکی فضائی دفاع میں دراندازی کی۔

"اسپوتنک" نیوز ایجنسی نے بھی عراق، اردن اور شام کی رحد پر واقع اس امریکی بیس پر حملے کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج نے 55 کلومیٹر کے علاقے میں واقع "التنف" اڈے کے قرب و جوار میں اپنے فضائی دفاع کے ذریعے طیارے کا سامنا کرنے کی کوشش کی لیکن دو ڈرون طیارے براہ راست اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

قبل ازیں شامی ذرائع نےبتایا تھا کہ جمعہ کے روز شمال مشرقی شام میں حسکہ کے دیہی علاقوں میں بین الاقوامی اتحاد کے اڈے پر پرتشدد دھماکے ہوئے۔ ذرائع کے مطابق یہ دھماکے ایرانی حامی دھڑوں کے حملوں کا نتیجہ جنہوں نے حسکہ میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنایا۔

شامی میڈیا کے مطابق عراقی دھڑوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی التنف بیس کو نشانہ بنایا۔

عراقی دھڑوں نے کل یہ بھی کہا کہ انہوں نے مغربی عراق میں انبار گورنری میں عین الاسد کے اڈے کو ڈرون سے نشانہ بنایا اور "براہ راست اپنے ہدف کو نشانہ بنایا تھا"۔

یہ پیش رفت امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ امریکی طیاروں نے شام میں دو مقامات پر حملے شروع کیے ہیں، جو ان کے بقول ایرانی پاسداران انقلاب کی افواج اور ایران کے ساتھ اتحادی گروپ استعمال کر رہے تھے۔

آسٹن نے مزید کہا کہ ان حملوں کا فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تنازع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ شام میں سائٹس پر حالیہ امریکی حملے "اپنے دفاع کا حصہ" تھے۔

کربی نے جمعے کو اے بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ حملے زیادہ تر اپنے دفاع میں کیے گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آپ جانتے ہیں کہ ہماری افواج اور پوزیشنوں پر حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جن میں سے زیادہ تر میزائل حملے ان گروہوں کی طرف سے کیے گئے،جو ایرانی حمایت یافتہ ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی بمباری کا نشانہ بننے والے مقامات میں ہتھیاروں کے ڈپو بھی شامل ہیں۔

امریکی اہلکار نے مزید کہا کہ ان کا ملک اپنی افواج اور پوزیشنوں کی حفاظت کا پابند ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں