مشرق وسطیٰ

غزہ آؤٹ آف کوریج، کیا انٹرنیٹ سروس جلد بحال ہو سکے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے گنجان آباد غزہ کی پٹی کل جمعہ کی شام سے تقریباً مکمل طور پر کوریج سے باہر ہے اور بیرونی دنیا سے اس کا رابطہ منقطع ہے۔

مواصلاتی اور انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر منقطع ہو گئی تھی۔ اسرائیل کی شدید فضائی اور زمینی گولہ کی آگ میں انٹرنیٹ کی بندش نے پورا غزہ تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔

جب کہ فلسطینی ہلال احمر کے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز، اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت کئی امدادی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کی پٹی سے مواصلاتی رابطہ منقطع ہونے کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔

دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی سہولیات کا تعطل طویل عرصے تک رہ سکتا ہے۔

مقصد حماس کے دفاع کو "کمزور کرنا"ہے

غزہ کی پٹی میں مواصلاتی سروسز کی بندش کا مقصد حماس کے دفاع کو "کمزور" کرنا اور اس کے مختلف یونٹوں کے درمیان رابطے منقطع کرنا ہے۔

آزاد انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپس نے اس کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کو سات اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کا بدترین مواصلاتی بلیک آؤٹ قرار دیا ہے۔

غزہ تباہی کے مناظر: رائیٹرز
غزہ تباہی کے مناظر: رائیٹرز

اس تناظر میں عالمی سطح پر انٹرنیٹ کمیونیکیشن کی نگرانی کرنے والی کیلیفورنیا کی کمپنی کائنیٹک میں انٹرنیٹ تجزیہ کے ڈائریکٹر ڈوگ میڈوری نے کہا کہ اس کی بحالی میں کئی دن اور شاید زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

انہوں نے ’سی این این‘ کو دیئے گئے بیانات میں کہا کہ 2014ء میں بھی غزہ میں انٹرنیٹ کی بندش دیکھی گئی لیکن معاملہ اس سطح پر نہیں تھا۔

لندن میں قائم انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والی کمپنی ’نیٹ بلاکس‘ نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سے غزہ کی پٹی میں میدان جنگ کی صورت حال کے بارے میں عالمی سطح پر جان کاری میں مشکلات پیش آئیں گی اور یہ غزہ کی آبادی کی مشکلات میں ایک نیا موڑ ثابت ہو گا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ محصور پٹی پر پرتشدد بمباری کے علاوہ مواصلاتی سروسزاور انٹرنیٹ کا انقطاع ایک بڑی تباہی ہے کیونکہ یہ طبی ٹیموں اور ایمبولینسوں کے درمیان زخمیوں کے لیے رابطے ختم کر دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں