غزہ میں مواصلات کی بندش کےبعدایلون مسک سٹارلنک انٹرنیٹ کوفعال کریں: سوشل میڈیا صارفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی حملوں کی وجہ سے جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں انٹرنیٹ اور مواصلات کی رسائی ختم ہونے کے بعد دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین نے ایلون مسک سے مطالبہ کیا کہ غزہ کو سٹار لنک تک رسائی فراہم کی جائے۔

غزہ میں لڑائی میں شدت آ گئی کیونکہ اسرائیلی افواج نے اپنی زمینی کارروائیوں کو وسعت دی اور 2 ملین سے زیادہ لوگوں کی آبادی کو بیرونی دنیا سے منقطع کر دیا۔

تازہ ترین مواصلاتی بندش نے ہنگامی ردِعمل تک رسائی کو تقریباً ناممکن بنا دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر مقیم ہزاروں خاندانوں اور دوستوں کو غزہ کے باشندوں کی خیریت کے لیے پریشان کر دیا ہے۔

عالمی ادراہ صحت سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں نے کہا کہ وہ اپنے عملے سے رابطے سے محروم تھیں۔ غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بڑے پیمانے پر مظالم کے امکان سے خبردار کیا۔

مواصلاتی بندش کے جواب میں کئی سوشل میڈیا صارفین نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) کے مالک ایلون مسک سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کے باشندوں کو سٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ بُرج تک رسائی فراہم کریں۔ ہفتہ کی صبح تک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہیش ٹیگ سٹارلنک فارغزہ کو 3.74 ملین سے زیادہ پوسٹس میں استعمال کیا گیا۔

مسک سٹارلنک بنانے والی کمپنی سپیس ایکس کے بھی مالک ہیں جو سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سسٹم تک رسائی کی اجازت دیتی ہے اور اس کمپنی نے نجی طور پر ٹرمینلز کے ٹرک بھر کر یوکرین بھیجے تھے۔ 2022 کے حملے سے کچھ دیر قبل روس کی جانب سے یوکرین کے مواصلاتی نظام کو منقطع کرنے کے بعد فوجی اور سویلین دونوں صارفین نے سٹارلنک انٹرنیٹ پر انحصار کیا۔

17 اکتوبر کو اسرائیلی وزیرِ مواصلات شلومو کارہی نے کہا کہ ان کا ملک تنازعات کے درمیان سٹارلنک سسٹم کے ساتھ اپنی انٹرنیٹ اور مواصلاتی صلاحیت کو تقویت دینے کے لیے سپیس ایکس سے بات چیت کر رہا تھا۔

وزیر نے سوشل میڈیا کے ایک بیان میں کہا، "وزیر کی رہنمائی میں یہ وزارت میئرز اور متنازعہ بستیوں کے سربراہان کے فائدے کے لیے ان سیٹلائٹ آلات کی خریداری کو فروغ دیتی ہے۔"

سٹارلنک فی الحال اسرائیل یا فلسطینی علاقوں میں دستیاب نہیں ہے۔ سٹارلنک کی ویب سائٹ پر ایک انٹرایکٹو نقشے پر اسرائیل اور غزہ کے مقام پر "2024 سے ابتدا" کے الفاظ لکھے نظر آتے ہیں جبکہ یروشلم اور مغربی کنارے کے علاقے یہ الفاظ دکھاتے ہیں: "اس وقت سروس کی تاریخ نامعلوم ہے۔"

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اسپیس ایکس ایسی سروس کو فعال کرنے کے لیے اسرائیل سے بات چیت کر رہا ہے لیکن تاریخی طور پر کمپنی جنگ اور فوجی کشیدگی کی کارروائیوں سے دور رہنے کے لیے معروف ہے۔

ستمبر میں رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ ایلون مسک نے 2022 میں یوکرین کی درخواست سے انکار کر دیا تھا کہ وہاں روس کے جنگی بیڑے پر حملے میں مدد کے لیے کریمیا کے بندرگاہی شہر سیواستوپول میں سٹارلنک سیٹلائٹ نیٹ ورک کو فعال کیا جائے۔

مسک نے ایکس پر کہا، "واضح ارادہ لنگر انداز روسی بیڑے کا بیشتر حصہ غرق کرنے کا تھا۔ اگر میں ان کی درخواست پر راضی ہو جاتا تو سپیس ایکس جنگ اور تنازعات میں اضافے کی ایک بڑی کارروائی میں واضح طور پر شریک ہوتا۔"

لاجسٹکس کے نقطہ نظر سے حتیٰ کہ اگر سپیس ایکس سٹارلنک تک رسائی کی منظوری دے بھی دے تو یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمینلز کو غزہ میں کیسے پہنچایا جا سکتا ہے کیونکہ سرحدیں بند ہیں سوائے مصر کی رفح گذرگاہ کے ذریعے امداد کی کبھی کبھار منتقلی کے۔

11 اکتوبر کو ایک اعلان کے مطابق مسک کی برقی گاڑیوں کی کمپنی ٹیسلا نے اسرائیل میں اپنے 22 سپر چارجرز کو استعمال کے لیے مفت کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں