مصر پر میزائل حوثیوں نے داغے، مصری نقصان کی مذمت کرتے ہیں: اسرائیل

ابھی ڈرونز حملے بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں: مصری فوجی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے سرحد پار مصری علاقے میں گرنے والے میزائلوں کو حوثیوں کی طرف سے پھینکے گئے میزائل قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے مصری فوجیوں کو ان میزائلوں اور ڈرونز سے پہنچنے والے نقصان کی مذمت کی ہے۔

اسرائیلی وزارت کے ترجمان کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ یہ میزائل دہشت گرد حوثیوں نے اسرائیل کو نشانہ بنانے کی نیت سے داغے تھے۔'

واضح رہے جمعہ کے روز پروجیکٹائلز نے بحر احمر کے نزدیک دو مصری قصبوں کو نشانہ بنایا تھا۔ جس کے نتیجے میں چھ لوگ زخمی ہو گئے۔ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے۔

مصری فوج کے ترجمان کرنل غریب عبدالحفیظ نے اس حملے کو غیر شناخت شدہ ڈرونز کا صبح سویرے حملہ کہا ہے اور بتایا ہے کہ ایک ہسپتال سے جڑی عمارت میں گرے۔ ان ڈرونز کی وجہ سے چھ افراد طابا میں زخمی ہوئے۔ یہ علاقہ اسرائیلی سرحد سے جڑا ہوا ہے۔'

بعد ازاں ایک اور پروجیکٹائل نوویبہ کے علاقے میں بجلی بنانے کے ایک پلانٹ سے متصل گرا۔ اس واقعے میں دو مصری سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔ یہ علاقہ سرحد سے 70 کلومیٹر دور ہے۔'

مصری فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ مصر ابھی معلومات اکٹھی کر رہا ہے۔ دوسری جانب کسی گروپ یا ملک نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ طابا اور نوویبہ دونوں مصر کے صحرائے سینا میں واقع ہیں۔

ادھر امریکہ اور اسرائیل ان دنوں حوثیوں کے بارے میں کافی ہوشیار ہیں، کہ حوثیوں کے راکٹ اور ڈرونز سے علاقے میں امریکی فوج اور تنصیبات کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا چکی ہے۔

امریکی پینٹا گون کی طرف سے تاخیر سے کی گئی تصدیق کے مطابق ایک درجن سے زائد ڈرون اور میزائل حملے امریکی ٹارگیٹس کے خلاف کیا جا چکے ہیں۔ امریکہ ان حملوں کی ذمہ داری ایران اور اس کی حامی مسلح تنظیموں پر ڈالتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں