پاسداران انقلاب کی دھمکی ۔۔۔ تمام امریکی ٹھکانوں پر نظر ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی تنظیموں اور اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی حالیہ جنگ کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے جلو میں ایران نے ایک مرتبہ پھر اپنی دھمکیوں کا اعادہ کیا ہے۔

ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے ترجمان رمضان شریف نے کہا ہے کہ ’’جو ہاتھ اسرائیل تک نہیں پہنچ سکتے ان کی پہنچ امریکی فوج تک ضرور ہو سکتی ہے، جو اس وقت بہ قول ترجمان غزہ میں جنگ کا کھیل رچا رہی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترجمان نے مزید کہا کہ ’’امریکہ کے تمام اڈے اور ان کی پروازوں پر ہم نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

خطہ میں ابال آ سکتا ہے

انہوں نے کہا اگر غزہ پر بمباری میں عام شہریوں کی شہادتیں ہوتی رہیں تو ایسے میں خطے میں بھونچال آ سکتا ہے۔

قبل ازیں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان کا یہ بیان سامنے آ چکا ہے کہ مسلح گروپ کا ان کے ملک کے ساتھ اتحاد ہے، غزہ میں اسرائیلی جنگ رہنے کی صورت میں ہم حرکت میں آ سکتے ہیں۔

ایران کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ شام اور عراق میں امریکی افواج پر حملہ کرنے والے گروپ آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں اور انہیں تہران سے کوئی حکم یا ہدایات نہیں ملتی۔

وزیرِ خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے بلومبرگ ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، "انہیں ہماری طرف سے کوئی حکم یا ہدایات موصول نہیں ہو رہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان کا تعلق ایران سے ہے۔ یہ گروپ اپنے لیے آزادانہ طور پر فیصلہ کرتے ہیں۔"

امیرعبداللہیان نے یہ بات امریکہ کے ایک بیان کے ایک دن سے بھی کم وقت کے بعد کہی ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ اس نے ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی سے منسلک دو شامی تنصیبات پر فوجی حملے کیے جو خطے میں امریکی فوجیوں کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ ان کے پاس ایسے ثبوت نہیں ہیں کہ ایران نے واضح طور پر ان حملوں کا حکم دیا تھا لیکن وہ ایران کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ ان حملوں کو انجام دینے والے گروہوں کی حمایت کرتا ہے۔

امیرعبداللہیان نے کہا کہ انہوں نے عسکریت پسند گروپ حماس کو مشورہ دیا کہ وہ زیرِ حراست شہری قیدیوں کو رہا کرے۔ حماس کو امریکہ اور یورپی یونین نے دہشت گرد گروپ قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں