’انگلی لبلبے پر ہے‘ ایران: خطے میں مزاحمتی تنظیمیں تیار بیٹھی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی مسلسل دھمکیوں کے سلسلے میں وزیر خارجہ ایران حسین امیر عبداللھیان نے کہا ہے ’’کہ اگر اسرائیل غزہ میں جنگ جاری رکھتا ہے تو ایسے میں تہران کی حلیف مسلح مزاحمتی تنظیمیں تیار ہیں۔‘‘

’’مضبوط منصوبہ بندی"

امریکہ کے شہر نیویارک میں نینشل پبلک ریڈیو [این پی آر] کو جمعہ کے روز ایک انٹرویو دیتے ہوئے عبداللھیان نے بتایا کہ میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران لبنان اور فلسطینی کی مزاحمتی تنظیموں سے ملا ہوں۔ جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں میں نے ان کے ہاں اس سے بھی مضبوط اور گہری منصوبہ بندی دیکھی ہے۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ دو ہفتے قبل میں نے خطے کا دورہ کیا اور چند ملکوں اور لبنان میں مزاحمتی تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کی، ان میں لبنان میں موجود فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کی قیادت بھی شامل تھی ۔۔۔ ان کے منصوبوں کی تفیصل جان کر مجھے لگا کہ وہ لبلبے پر انگلی رکھے مکمل طور پر تیار وآمادہ ہیں۔

’’کچھ بھی ہو سکتا ہے‘‘

عبداللھیان نے مزید کہا ’’کہ اگر صورت حال ایسے چلتی رہی اور غزہ وغرب اردن کی خواتین، بچوں اور نہتے شہریوں کا قتل ایسے ہی جاری رہا تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘


ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ’’ان [مزاحمتی تنظیموں] کے پاس میزائل، راکٹوں اور بغیر پائیلٹ ڈرونز کافی تعداد میں موجود ہیں ۔۔ وہ یہ تمام چیزیں جہاں سے چاہیں سہولت کے ساتھ لے سکتے ہیں۔

’’وہ اسلحہ تیار بھی کر سکتے ہیں‘‘

انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ مزاحمتی تنظمیوں کے پاس ضروری اسلحہ سازی کی صلاحیت اور امکان بھی موجود ہے ۔۔۔ وہ خصوصی تربیت دیتے ہیں ۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے طور پر ہی اس آپریشن کا بیڑا اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

عبداللھیان نے بتایا کہ ایران، حماس کی صرف سیاسی حمایت کرتا ہے۔ کیا ایران حماس کو اسلحہ نہیں دیتا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ایرانی وزیر نے کہا کہ وہ ’’موجود حالات‘‘ کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حماس کے پاس کافی اسلحہ موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں