اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے "فوری" تبادلے کے لیے تیار ہیں: حماس رہنما کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ فلسطینی عسکریت پسند گروپ اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے "فوری" تبادلے کے لیے تیار ہے۔

سنوار نے ایک بیان میں کہا، "ہم قیدیوں کے تبادلے کا ایک فوری معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں جس میں فلسطینی مزاحمت کے ہاتھوں قید تمام قیدیوں کے بدلے اسرائیلی جیلوں سے تمام فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔"

اس سے قبل ہفتے کے روز حماس کے مسلح ونگ نے کہا تھا اگر اسرائیل اپنی جیلوں میں قید تمام فلسطینیوں کو رہا کر دے تو وہ ان اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے جو 7 اکتوبر کے غیر متوقع حملے کے دوران اغوا کیے گئے۔

عزالدین القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے حماس کے زیرِانتظام الاقصیٰ ٹی وی چینل کی طرف سے نشر کردہ ایک بیان میں کہا، "ہمارے ہاتھوں میں دشمن کے یرغمالیوں کی بڑی تعداد کی قیمت (اسرائیلی) جیلوں کو تمام فلسطینی قیدیوں سے خالی کرنا ہے۔"

"اگر دشمن قیدیوں کی اس فائل کو ایک ہی دفعہ میں بند کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ اگر یہ مرحلہ وار کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔"

اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ کی پٹی میں تقریباً 229 یرغمالیوں کو عسکریت پسندوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔

جمعرات کو عزالدین القسام بریگیڈز نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے تین ہفتوں میں اسرائیلی بمباری سے "تقریباً 50" یرغمالی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اے ایف پی فوری طور پر اعداد و شمار کی تصدیق کرنے کے قابل نہیں تھا۔

اسرائیلی حکام کہتے ہیں کہ 7 اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں نے سرحد پار سے حملہ کر کے اسرائیلیوں کو یرغمال بنا لیا اور 1,400 سے زیادہ افراد کو ہلاک کر دیا تب سے اسرائیل زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں 7,700 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں تقریباً 3,500 بچے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں