ایک رات میں غزہ کو پتھرکے دورمیں دھکیل دیا گیا،زندہ بچ جانے والوں پر موت کا خوف طاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

7 اکتوبر کو حماس اور اسرائیل کے درمیان چھڑنے والی جنگ کے بعد اسرائیلی فوج ویسے تو ہر لمحہ بمباری کررہی ہے مگر جمعہ کی رات کو اسرائیلی قابض فوج نے غزہ کا مواصلاتی نظام معطل کرنے بعد حالیہ عرصے کی شدید ترین بمباری کی اور اس کے ساتھ ہی قابض فوج نے اپنے زمینی دستے غزہ کے اندر داخل کردیے۔

عینی شاہدین نے کہا کہ بہت ہی محدود تعداد میں لوگوں کے درمیان رابطے کا واحد طریقہ اسرائیلی نیٹ ورکس سے سگنل وصول کرنے پر منحصر ہے۔

عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (AWP) نے کچھ فلسطینیوں کا حوالہ دیا جن کے ساتھ انہوں نے فون پر بات کی ہے۔ ان کے پاس اسرائیلی سمیں ہیں اور ان کی سروس محدود مقامات پردستیاب ہے ۔

"کیرئیر کبوتر کا دور"

خالد مرتضیٰ اس صورت حال کو یہ کہتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں لوگ "کبوتروں کے ذریعے پیغام رسانی کے دور میں لوٹ چکے ہیں، جہاں پیدل چلنے کے علاوہ رابطے کا کوئی آپشن نہیں ہے۔" مرتضیٰ نے غزہ کو دنیا سے جلاوطن ایک "سیارے" سے تشبیہ دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہاں تک کہ جس شخص کے پاس اسرائیلی سم کارڈ ہے اسے دوسری طرف جانے کی صورت میں ہی اسےاستعمال کرنے کا موقع مل سکتا ہے جس کے ذریعے غزہ کے بارے میں میں بات کرسکتا ہے۔ اسی طرح کا سم کارڈ ہونا چاہئے تاکہ وہ نیٹ ورک تک رسائی حاصل کر سکے"۔

"خوفناک رات"

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم مسلسل دہشت میں رہتے ہیں۔ مواصلاتی بندش نے ہماری مصیبت میں اضافہ کردیا ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے آس پاس کیا ہو رہا ہے۔ آپ کے ارد گرد ہر جگہ بمباری ہو رہی ہے۔ آپ کسی کے ساتھ بات چیت کرنے سے قاصر ہیں کہ کیا معلوم کریں۔ ٹیلی ویژن پر خبریں کیسے دیکھیں کہ بجلی نہیں۔

انہوں نے غزہ کے لوگوں کی حالت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم پہلے کیمروں کے سامنے ذبح ہوتےتھے، اب ہم زیادہ پرتشدد مگر خاموشی سے ذبح کیےجائیں گے‘‘۔

"ایندھن کی قلت"

دریں اثنا عابد شعث نے کہا کہ غزہ میں زندگی "پتھر کے زمانے" میں واپس آ گئی ہے اور ایندھن ختم ہونے کے بعد سڑکوں پر گاڑی چلاتے ہوئے دیکھنا عجیب ہو گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر آپ کے قریب کوئی بم دھماکہ ہوتا ہے اور آپ ایمبولینس کو اطلاع دینا چاہتے ہیں۔ تو آپ کو ایمبولینس کو بم دھماکے کی جگہ کی اطلاع دینے کے لیے کئی کلومیٹر پیدل جانا پڑتا ہے"۔

"زخمیوں کو لے جانے کے لیے گدھے بھی کم پڑ گئے"

شعث نے نشاندہی کی کہ لوگ اب نقل و حمل کے ابتدائی ذرائع استعمال کر رہے ہیں اور گدھوں پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "وہاں زخمیوں کو گدھا گاڑیوں پر لے جایا جا رہا ہے مگر اب گدھے بھی کم پڑ گئے ہیں"۔

محمد عبدالرحمٰن کو توقع ہے کہ بہت سے ایسے قتل عام ہوں گے جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ کیونکہ وہ غزہ کی پٹی کے مضافات میں واقع علاقوں میں ہوئے۔ اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ ایمبولینس کے عملے کے کے ساتھ رابطے کا کوئی ذریعہ نہیں۔

بمباری سے بچنے کے لیے خاندان تقسیم کیے جانے لگے

انہوں نے مزید کہا کہ "لوگوں نے ایک خاندان کو گروہوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا، تاکہ اگر ایک گروہ پر بمباری کی جائے تو دوسرے زندہ رہیں اور پورا خاندان مارا نہ جائے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں