غزہ میں بنیادی ڈھانچے اور واٹرسپلائی نیٹ ورک کو تباہ کرنا جنگی جرم ہے: عرب لیگ

اسرائیل نے غزہ میں زمین کو جھلسا دینے والی پالیسی کا آغاز کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں ہمسایہ ممالک کی قیمت پر نقل مکانی کے مقصد کے لیے "آتش زدگی کا شکار سرزمین " کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ کو آگ کا ڈھیر بنا کر وہاں کی آبادی کو دوسرے ممالک کی طرف ھجرت پرمجبور نہیں کرسکتا۔

ابو الغیط نے علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے چھٹے قاہرہ واٹر ویک کی سرگرمیوں کے دوران مزید کہا کہ غزہ میں بنیادی ڈھانچے اور پانی کے نیٹ ورک کو تباہ کرنا "جنگی جرائم" ہیں۔

عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ عرب آبی سلامتی کو اب بھی "بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عرب اقدام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان چیلنجوں سے "پانی کی سطح میں خطرناک کمی" کا خطرہ ہے۔

حال ہی میں قاہرہ میں منعقدہ امن سربراہی اجلاس کے دوران ابو الغیط نے غزہ پر وحشیانہ اسرائیلی بمباری بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ غزہ جنگ جاری رہی تو اس سے عالمی جنگ چھڑنے کا اندیشہ ہے۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے تمام شہریوں کے خلاف بلا تفریق ہر قسم کے تشدد کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ابو الغیط نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی ریاست کے قیام، غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی اور لوگوں کو پانی، بجلی اور ایندھن کی فراہمی کے لیے فوری معاہدہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ پر اسرائیل کی جنونی جنگ جاری ہے۔ عالمی برادری سے جنگ بندی کرنے، انسانی امداد پہنچانے کے لیے راہداری کھولنے اور آبادی تک پانی، خوراک اور توانائی کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں