غزہ میں 7 اکتوبر کےیرغمالیوں کےلیے مصرکے رابطے،اسرائیل دباؤ میں،حماس ڈیل کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اکتوبر کی کارروائی میں حماس کے زیر حراست قیدیوں کی فائل میں تیزی سے پیشرفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے مصر نے رابطے تیز کردیے ہیں۔ ان رابطوں میں قطر بھی شامل ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے اندرونی اور بیرونی سطح پر دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔غزہ میں قید کیے گئے اسرائیلیوں کے اہل خانہ نے غزہ میں حماس کے خلاف زمینی حملے کی مخالفت کی ہے۔ دوسری طرف حماس نے اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

قاہرہ نیوز چینل نے اتوار کے روز اعلیٰ سطحی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ مصر کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے اور قیدیوں اور زیر حراست افراد کے تبادلے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی طور پر تمام متعلقہ ممالک اور فریقین کے ساتھ وسیع رابطے کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع نے مزید کہا کہ قاہرہ "رواں ہفتے کے دوران" غزہ کی پٹی میں بڑی مقدار میں انسانی امداد پہنچانے کے لیے تمام بین الاقوامی فریقوں کے ساتھ اپنے رابطے تیز کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتریس نے غزہ کے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پائیدار طریقے سے انسانی امداد فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو عوامی حلقوں بالخصوص قیدیوں کے اہل خانہ کی وجہ سے بھی دباؤ میں ہیں۔ دو سو سے زاید قیدیوں کے اہل خانہ نے نیتن یاھو سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی روکیں اور جنگ بندی کرکے قیدیوں کو آزاد کرائیں۔

قیدیوں کے اہل خانہ غزہ میں زمینی حملے کے خلاف

نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل حماس کے خاتمے اور غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے لیے کام کر رہا ہے۔

لیکن کوئی نہیں جانتا کہ اندرونی تنقید اور قیدیوں کے اہل خانہ سے غزہ پر حملے میں محتاط رہنے کے مطالبات میں پھنسے نیتن یاہو کس طرح حماس کو ختم کر سکتے ہیں۔ ہر کوئی یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج زمینی آپریشن کو کیسے کامیاب بنائے گی جبکہ گذشتہ دو روز میں حماس کئی بار اسرائیلی فوج کے حملوں کو پسپا کرچکی ہے۔

’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے اسرائیلی زیر حراست افراد کے خاندانوں میں سے ایک کے حوالے سے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے اپیل کی کہ وہ فوجی آپریشن شروع نہ کریں۔کیوں کہ اس سے ان کے جنگی قیدی بنائے گئے اقارب کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

نیتن یاہو کو غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست اسرائیلیوں کے اہل خانہ کو جواب دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر وزیراعظم نے ان سے ملاقات نہ کی تو وہ بہ طور احتجاج مظاہرے کریں گے۔

عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کے اہل خانہ نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ انہیں بتائیں کہ غزہ کی پٹی میں فوج کی جانب سے شروع کی گئی زمینی کارروائیوں کی روشنی میں ان کے بچے کیسے زندہ رہیں گے۔

ملاقات کے دوران متعدد زیر حراست افراد کے اہل خانہ نے تل ابیب میں وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے مظاہرہ کیا جہاں مظاہرین نے زیر حراست اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

درایں اثناء قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا ملک ان تمام منظرناموں کا جائزہ لے رہا ہے جو تمام قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ .

ترجمان ماجد الانصاری نے مزید کہا کہ غزہ میں موجودہ کشیدگی "یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کو پیچیدہ بنا رہی ہے، لیکن ہم پر امید ہیں۔"

الانصاری نے غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرنے والی فلسطینی تحریک حماس کی طرف سے سول یرغمالیوں کی جلد رہائی کا امکان ظاہر کیا۔

قطری ترجمان نے کہا کہ یرغمالیوں کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنے اور غزہ میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تمام محاذوں اور تمام امکانات اور منظرناموں پر کوششیں کی جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں