غزہ کی جنگ طویل اور مشکل، حماس حملے سے متعلق سب سے پوچھ گچھ ہوگی: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں خوفناک بمباری اور زمینی کارروائی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ طویل اور مشکل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کا مقصد حماس کی تحریک کو ختم کرنا ہے۔

وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور منی گورنمنٹ کے رکن بینی گانٹس کی شرکت کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے دعوے کے مطابق یہ الزامات ایک قسم کی منافقت ہیں۔ اس کے بعد نیتن یاھو نے حماس کو ختم کرنے کا عہد کیااور کہا کہ ہماری فوج زمین پر اور زیر زمین سرنگوں میں موجود دشمن کو تباہ کر دے گی۔

اسرائیل میں 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے حوالے پائے جانے والے غم و غصہ کے تناظر میں وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ غزہ پر جنگ کے خاتمے کے بعد خود سمیت ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ زمینی آپریشن کے باوجود قیدیوں کی رہائی کے لیے رابطے جاری ہیں۔

نیتن یاہو نے قیدیوں کے اہل خانہ کے نمائندوں سے ملاقات کرنے پر اتفاق کیا۔ قیدیوں کے اہل خانہ نے اس منصوبے کو دیکھنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے ذریعے حکومت بحران سے نمٹنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ فوج حماس کے خلاف اپنے حملوں کو بڑھائے گی تاکہ حماس کو وہ حل اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے جو اسرائیل چاہتا ہے۔ دوسری جانب تحریک حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ رواں ماہ کی سات تاریخ کو اسرائیل پر حملے کے دوران قید کیے گئے قیدیوں کو تمام فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے میں رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔

ترجمان ابو عبیدہ نے ایک آڈیو ریکارڈنگ میں کہا کہ اسرائیل کو قیدیوں کی اس بڑی تعداد کے لیے جو قیمت ادا کرنی ہوگی وہ تمام فلسطینی قیدیوں کی جیلوں کو خالی کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل قیدیوں کے معاملے میں تاخیر کر رہا ہے اور اس نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ اس کی بمباری سے ان میں سے تقریباً 50 یرغمالی مارے گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حماس زمینی جنگ کے لیے تیار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں