’سکیورٹی اداروں سے متعلق نیتن یاھو کی متنازع ٹویٹ جس نے ایک نیا ہنگامہ کھڑا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوشل میڈیا پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی ایک متنازع ٹویٹ نے سیاسی اور عسکری حلقوں میں ایک نیا ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔

آج اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ پوسٹ کرنے کے بعد حذف کر دی تھی۔ اس ٹویٹ میں انہوں نے 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی کے ارد گرد کی بستیوں پر حماس کے حملے کے حوالے سے سکیورٹی اداروں اور عسکری قیادت کو قصور وار قرار دیا گیا تھا۔

عرب ورلڈ نیوز کے مطابق نتن یاہو نے کل نصف شب کے بعد پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ٹویٹ میں کہا کہ "جھوٹے الزامات کے برعکس وزیر اعظم کو کسی بھی حالت میں اور کسی بھی مرحلے پر حماس کے حملے کے عزائم کے بارے میں خبردار نہیں کیا گیا تھا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس کے برعکس نیشنل سکیورٹی سروس کے سربراہ اور ’شن بیٹ‘ کے سربراہ سمیت تمام سکیورٹی حکام کا دعویٰ تھا کہ حماس کو روکا گیا ہے"۔

نیتن یاہو نے وضاحت کی کہ یہ وہ اندازہ تھا جو جنگ شروع ہونے تک سکیورٹی سروسز کی طرف سے بار بار ان کے اور کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

ٹویٹ پر سرائیل میں طوفان

نیتن یاہو کی ٹویٹ جسے انہوں نے بعد میں حذف کر دیا تھا نے اسرائیل کے اندر سیاسی حلقوں کی طرف سے تنقید کا طوفان برپا کر دیا۔

جنگی کابینہ کے رکن اور اسٹیٹ کیمپ پارٹی کے رہ نما بینی گانٹز نے نیتن یاہو پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "جب ہم جنگ میں ہوتے ہیں تو قیادت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، صحیح کام کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے اور فوج کو مضبوط کرنا چاہیے" ۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ذمہ داری سے بچنا اور سکیورٹی سسٹم پر الزام لگانا لڑائی کے دوران فوج کو کمزور کر دیتا ہے‘‘۔ بینی گنٹز نے زور دیا کہ وہ مکمل طور پر سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ "میں جنرل اسٹاف، انٹیلی جنس سروس کے سربراہ، جنرل سکیورٹی سروس (شن بیٹ) کے سربراہ سمیت تمام سکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کے سپاہیوں کی حمایت کرنا چاہوں گا"۔

حزب اختلاف کے رہ نما اور ’فیوچر‘ پارٹی کے سربراہ یائرلپیڈ نے زور دے کر کہا کہ نیتن یاہو کو حماس کے حملے سے قبل وارننگ موصول ہوئی تھیں۔

انہوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر شائع ہونے والے ایک بیان میں لکھا کہ "20 ستمبر کو یوم کپور کے موقع پر میں نے متعدد محاذوں پر تشدد کے امکان کے بارے میں ایک غیر معمولی انتباہ شائع کیا تھا۔ میں نے جن انٹیلی جنس معلومات پر بھروسہ کیا وہ نیتن یاہو کو بھی پیش کی گئی تھیں‘‘۔

نیتن یاہو کا ذمہ داری قبول کرنے سے انکار

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اب تک حماس کے حملوں میں اپنی ناکامی تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم دوسرے لیڈروں نے عوامی طور پر ان کے لیے اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کا اندرونی حساب کتاب غزہ جنگ کے خاتمے کے بعد ہو گا، لیکن بہت سے سیاست دان اور مبصرین ایک طویل جنگ کی توقع رکھتے ہیں جو برسوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ اسرائیل نے حماس کو جڑھ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کیا ہے مگر مبصرین اسرائیل کے اس ہدف کی تکمیل کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

جنگ کے بعد نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے بارے میں بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ غزہ کی جنگ شروع ہونے سے قبل عدلیہ کے اختیارات کم کرنے کے فیصلے پر نین یاھو کے خلاف ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے دیکھے گئے ہیں۔

اخبار "ہارٹز" نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو نے اس حملے کا اندازہ لگانے میں ناکامی کا ذمہ دار اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس ڈویژن "امان"، اس کے سربراہ ہارون ھلیوی اور جنرل سکیورٹی ایجنسی "شن بیٹ" کے سربراہ رونن بار کو ٹھہرایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں