فلسطین اسرائیل تنازع

اردن کا امریکہ سے پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل تعینات کرنے کا مطالبہ: فوج

اردن کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم نے امریکی فریق سے کہا کہ وہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل سسٹم کے ذریعے ہمارے دفاعی نظام کو مضبوط کرنے میں مدد کرے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ملک کی فوج کے ترجمان نے اتوار کے روز کہا کہ امریکہ کے کٹر اتحادی اردن نے واشنگٹن سے کہا کہ وہ اردن کے سرحدی دفاع کی مضبوطی کے لیے پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل نظام تعینات کرے کیونکہ یہ وقت بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور تنازعے کا ہے۔

اردن کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل مصطفیٰ حیاری نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا، "ہم نے امریکی فریق سے کہا ہے کہ وہ پیٹریاٹ فضائی دفاعی میزائل نظام کے ذریعے ہمارے دفاع کو مضبوط کرنے میں مدد دے۔"

امریکی پیٹریاٹ میزائل 2013 میں شمالی ہمسایہ ملک شام میں بغاوت کے بعد مملکت میں تعینات کیے گئے تھے جہاں مملکت کو خانہ جنگی چھڑ جانے اور علاقائی تنازعہ بھڑک اٹھنے کا خدشہ تھا۔

حکام نے بتایا کہ 7 اکتوبر کو انکلیو سے اسرائیل پر حماس کے مہلک حملے کے بعد سے غزہ پر اسرائیل نے جو بے لگام بمباری کی ہے، اس سے وسیع پیمانے پر ایک ہیبتناک تنازعہ بھڑک سکتا ہے۔ یہ بات اردن کے لیے پریشانی میں اضافہ کا سبب ہے۔

پیٹریاٹ نظام جسے امریکہ کے جدید ترین فضائی دفاعی نظاموں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، عموماً اس کی فراہمی کم ہوتی ہے کیونکہ دنیا بھر کے امریکی اتحادی اس کے لیے کوشاں ہیں۔

حیاری نے سوشل میڈیا کی ان خبروں کی تردید کی کہ پینٹاگون اپنے ڈپووں سے کچھ ساز و سامان اور اسلحہ اسرائیل پہنچانے کے لیے اردن کے فوجی اڈے استعمال کر رہا ہے تاکہ غزہ میں جنگ میں اسرائیل اپنے دفاع کو تقویت دے سکے۔

مغربی سفارت کاروں نے کہا پینٹاگون نے البتہ حالیہ مہینوں میں اردن کی فوجی تنصیبات کو استعمال کیا ہے تاکہ خطے میں واشنگٹن کی فوجی پوزیشن مضبوط ہو۔

امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں شرقِ اوسط میں بحری طاقت کی ایک قابلِ ذکر تعداد بھیجی ہے جس میں دو طیارہ بردار بحری جہاز اور ان کے امدادی بحری جہاز شامل ہیں اور خطے میں فوجیوں کی تعداد میں ہزاروں کا اضافہ کیا ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں بشمول ڈیفنس سکریٹری لائیڈ آسٹن نے شرقِ اوسط میں امریکی فوجیوں پر حملوں میں بڑے اضافے کے خطرے سے خبردار کیا ہے اور یہ کہ ایران اسرائیل-حماس جنگ کو وسیع کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

اردنی مملکت میں سینکڑوں امریکی تربیت دہندگان ہیں اور یہ ان چند علاقائی اتحادیوں میں سے ایک ہے جو سال بھر امریکی فوجیوں کے ساتھ وسیع مشقیں کرتے ہیں۔

اردن کی فوج واشنگٹن کی غیر ملکی فوجی مالی اعانت کے سب سے بڑے وصول کنندگان میں سے ایک ہے اور یہ سینکڑوں ملین ڈالر میں چلتی ہے۔

مملکت نے ڈرونز سے نمٹنے کے لیے مزید امداد کی بھی درخواست کی ہے جو شامی سرحد کے ساتھ منشیات کی اربوں ڈالر کی جنگ میں استعمال ہوتے ہیں جس کا الزام عمان ایران نواز ملیشیا پر عائد کرتا ہے جو جنوبی شام میں تسلط رکھتے ہیں۔

فوج کے ترجمان حیاری نے کہا، "ڈرون ہمارے تمام محاذوں پر خطرہ بن چکے ہیں۔"

2011 میں شامی تنازعہ کے آغاز کے بعد سے واشنگٹن نے عمان کی مدد کے لیے سیکڑوں ملین ڈالر خرچ کیے ہیں تاکہ شام اور عراق سے عسکریت پسندوں کی دراندازی کو روکنے کے لیے سرحدی نگرانی کا ایک وسیع نظام قائم کیا جا سکے جو بارڈر سیکیورٹی پروگرام کے نام سے معروف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں