اسرائیلی فضائیہ کا شام کے درعا میں دو فوجی چوکیوں پر حملہ: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی فوج نے پیر کو کہا کہ اس نے شام کے اندر فوجی ڈھانچے پر حملے کیے کیونکہ یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ حماس کے خلاف اس کی جنگ ایک وسیع علاقائی تنازع کا سبب بن سکتی ہے۔

فوج نے بتایا، "تھوڑی دیر پہلے اسرائیلی دفاعی افواج کے ایک لڑاکا طیارے نے لانچرز پر حملہ کیا" جہاں سے راتوں رات اسرائیلی علاقے کی طرف حملے شروع ہوئے۔

فوج نے کہا، اسرائیلی طیارے نے "شام کی سرزمین پر فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔"

فوج نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

شام کی وزارتِ دفاع نے پیر کو کہا اسرائیل نے صبح تقریباً 1:35 (2335 جی ایم ٹی) پر "مقبوضہ شامی گولان کی سمت سے حملہ کیا اور درعا کے دیہی علاقوں میں ہماری مسلح افواج کے دو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس سے کچھ مادی نقصان ہوا۔"

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے جنگی نگران نے کہا کہ قریبی مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں پر گولہ باری کے جواب میں اسرائیل نے درعا صوبے میں "توپ خانہ بٹالین" سمیت فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے علاقائی نتائج کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔

غزہ تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے عراق اور شام میں امریکی افواج پر حملوں کے ساتھ ساتھ لبنان کی سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں اضافہ ہوا ہے۔

اتوار کے آخر میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ راکٹ فائر کے جواب میں "لبنان میں حزب اللہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں" پر حملہ کر رہی تھی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق 7 اکتوبر کو جب غزہ سے حماس کے عسکریت پسندوں نے جنوبی اسرائیل میں گھس کر 1,400 سے زائد افراد کو ہلاک اور 200 کے قریب افراد کو یرغمال بنا لیا تھا، حزب اللہ کے ساتھ سرحد پار سے گولہ باری کے تبادلے تقریباً روز کا معمول بن گئے ہیں۔

اسرائیل نے غزہ پر بے دریغ بمباری سے جواب دیا ہے جس میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق 8,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں تقریباً نصف بچے ہیں۔

اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق حماس کے حملے کے بعد سے لبنان میں سرحد پار سے ہونے والے تشدد میں کم از کم 61 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہلاک شدگان میں ایک صحافی سمیت چار شہری بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی حکام نے چار ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جن میں ایک شہری بھی شامل ہے۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کے مطابق جھڑپوں کی وجہ سے لبنان میں تقریباً 29,000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں