العلا تندرستی میلہ سعودی عرب میں یوگا اور مراقبہ کی ترقی کا عکاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

یوگا اور تندرستی کی سعودی استاد لانا نذیر نے مملکت کے قدیم شہر میں میلے کے تیسرے ایڈیشن کے موقع پر العربیہ کو بتایا کہ العلا تندرستی میلہ سعودی عرب اور پورے خطے میں یوگا اور مراقبہ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کرتا ہے۔

انتہائی متوقع تقریب کا انعقاد 18 اکتوبر سے 4 نومبر تک فائیو سینس سینکچری میں ہو رہا ہے۔ یہ مملکت کے اندر اور پوری دنیا سے اس صنعت کے ماہرین کے زیرِ قیادت تندرستی کی سرگرمیوں کا ایک متأثر کن سلسلہ پیش کرتا ہے۔

آرٹ تھراپی اور ساؤنڈ ہیلنگ کلاسز سے لے کر ونیاسا اور ہاتھا یوگا تک یہ میلہ مہمانوں کو انتخاب کرنے کے لیے مختلف قسم کے تجربات پیش کرتا ہے۔

استاد نے کہا، "صرف العلا میں ایک میلہ منانا اور کئی لوگوں کو دروازے سے گذرتے دیکھنا – جن میں سے کچھ نے کبھی یوگا نہیں کیا اور ان میں سے کچھ برسوں سے اس کی مشق کر رہے ہیں – اس طرح کے ایونٹ کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کرتا ہے۔"

"یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مراقبہ لوگوں کو کس طرح متحرک کرتا ہے۔ اور ہاں، العلا کے لوگ ہیں جو آ رہے ہیں لیکن 90 فیصد لوگ سعودی عرب کے دیگر مقامات اور دوسری جگہوں سے آ رہے ہیں اور صرف یہاں آنے کے لیے وہ گاڑی سے یا بذریعہ ہوائی جہاز سفر کر رہے ہیں۔"

نذیر جو جدہ میں کراما یوگا کی بانی ہیں، 15 سال سے زیادہ عرصے سے یوگا کی مشق اور تعلیم دے رہی ہیں۔ العلا تندرستی میلے میں وہ مختلف قسم کی کلاسیں بشمول ونیاسا اور فری فلو یوگا نیز خواتین کے حلقے اور ہوشیاری کی باتیں پیش کر رہی ہیں۔

میلے میں ان کی اولین کلاس میں صرف تین حاضرین تھیں – اور وہ تمام العلا کی خواتین تھیں جنہوں نے ان کو بتایا کہ وہ مہینوں سے اپنی اولین یوگا کلاس میں شرکت کا انتظار کر رہی تھیں۔

انہوں نے کہا۔ "پہلی جماعت جو میں نے پڑھائی، اس میں صرف تین خواتین تھیں اور وہ العلا سے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے یوگا کرنے کا انتظار کر رہے تھیں۔ انہوں نے پہلے کبھی یوگا نہیں کیا تھا اور یہ انہیں بہت پسند آیا۔"

نذیر نے مزید کہا، "وہ نقل و حرکت کے لیے اور اپنے دماغ کو ساکت رکھنے کے ذرائع کے لیے بیتاب تھیں۔"

جب میلے کا دوسرا ویک اینڈ آیا تو سعودی استاد کو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ان کی کلاسز پوری استعداد کے ساتھ تھیں جن میں درجنوں مرد اور خواتین شامل تھے جو مشق کرنے کے شوقین تھے۔

انہوں نے ہفتے کے آخر میں کہا۔ "آج کی کلاس بہت بہت بڑی کلاس تھی۔ ہر کوئی کلاس کے بعد میرے پاس آیا اور کہا کہ اس نے انہیں شدت سے متأثر کیا جس سے مجھے بہت عاجزی کا احساس ہوا۔"

برازیل کی شہری ایلیسا کیمپوس مختلف قسم کے یوگا اور مراقبہ کے طریقوں کے بارے میں سننے کے بعد العلا تندرستی میلے میں شرکت کے لیے دبئی سے یہاں آئیں۔

کیمپوس نے العربیہ کو بتایا، "ایک بار جب میں نے العلا کے بارے میں سنا تو فیصلہ کیا کہ یہاں آ کر یوگا مشق کے ساتھ ساتھ حیرت انگیز مناظر کو محسوس کروں۔ مجھے یہاں آ کر بہت سکون ملا ہے اور واقعی شکر گذار ہوں کہ میں یہاں ہوں کیونکہ ہر چیز بہت خوبصورت اور بخوبی منظم ہے۔"

گھانا سے تعلق رکھنے والے لیکن دبئی میں مقیم نیتائی کرشنا کو میلے میں پڑھانے اور کئی کلاسوں میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "میں یہاں آ کر اور اپنی مصروف زندگی سے وقفہ لے کر اور العلا کی خاموشی اور سکون کا تجربہ کرنے پر اپنے لیے اعزاز محسوس کرتا ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا۔ "مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ سعودی عرب میں کتنے زیادہ لوگ یوگا کی مشق کو اپنا رہے ہیں اور وہ کلاسز کے بعد کتنے خوش ہوتے ہیں۔ میں کچھ طلباء کی آنکھوں میں آنسو دیکھتا ہوں تو یہ بہت حوصلہ افزا ہے اور یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے۔"

 العلا تندرستی میلہ (فراہم کردہ)
العلا تندرستی میلہ (فراہم کردہ)

ایک بیان میں رائل کمیشن فار العلا میں ڈیسٹی نیشن مینجمنٹ اور مارکیٹنگ کے نائب صدر رامی المعلم نے کہا: "آج لوگ اپنی صحت و تندرستی کو پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور ایسے مواقع کے لیے ان کی بیقراری میں صرف اضافہ ہو رہا ہے جو انہیں ریچارج کریں، دوبارہ (قوت و توانائی سے) لبریز کریں اور وہ مکمل طور پر اپنے اندر ایک نئی روح محسوس کریں۔"

نذیر نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی کلاسوں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ترتیب دیتی ہیں کہ تمام حاضرین ایڈجسٹ ہو جائیں خواہ وہ سعودی عرب کے اندر سے ہوں یا بیرونِ ملک سے۔

استاد نے کہا، "میں یہاں موجود ہونے اور ایک سعودی خاتون کے طور پر اپنے لوگوں اور یہاں آنے والوں کو بھی خدمات فراہم کرنے کے قابل ہونے کا اعزاز رکھتی ہوں اور انہیں یہ بتانے کے لیے کہ ہمارے پاس یوگا اور تندرستی کے اعلیٰ معیارات ہیں۔ ہم مقامی ہونے پر بہت فخر کرتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا۔ "میں دو زبانوں عربی اور انگریزی میں پڑھاتی ہوں۔ مجھے شمولیت پسند ہے۔ میں کسی ایک زبان کے لیے مخصوص نہیں ہونا چاہتی، میں جس طرح بولتی ہوں اسی طرح بولنا چاہتی ہوں جو عربی اور انگریزی دونوں میں ہے کیونکہ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خدمات فراہم کرنا چاہتی ہوں۔"

العلا تندرستی میلے کے دوران منعقد کردہ کلاسز اور سرگرمیاں العلا کے وافر تاریخی اور قدرتی ورثے سے گہرائی سے متأثر ہیں جو العلا کی میراث کو آرام اور احیاء کے مقام کے طور پر عزت دیتی ہیں۔

مہمان یہاں پرکشش تجربات، دوطرفہ شرکت پر مبنی ورکشاپس اور سرکردہ ماہرین کی متأثر کن گفتگو کے ساتھ فطرت پر مبنی سرگرمیوں میں بھی مشغول ہو سکتے ہیں جو العلا کا دلکش ماحول محفوظ رکھنے میں مدد کرتی ہیں جیسے کہ ینیہ میں ماحولیاتی باغبانی کی سیاحت اور کوکنگ کلاسز۔

العلا کا قدیم شہر

ریاض سے 1,100 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مغربی سعودی عرب میں واقع العلا میں ایک سرسبز نخلستان کی وادی، ریت کے پتھروں کے بلندوبالا پہاڑ اور قدیم ثقافتی ورثے کے مقامات ہیں جو ہزاروں سال قبل لحیان اور نباطین کی مملکتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

العلا، سعودی عرب میں مملکت میں یونیسکو کا اولین عالمی ثقافتی ورثہ مقام ہیگرا۔ 23 ستمبر 2023۔ (العربیہ)
العلا، سعودی عرب میں مملکت میں یونیسکو کا اولین عالمی ثقافتی ورثہ مقام ہیگرا۔ 23 ستمبر 2023۔ (العربیہ)

یہ شہر سعودی عرب میں یونیسکو کی اولین عالمی ثقافتی ورثے کی معروف ترین اور تسلیم شدہ مقام ہیگرا کا مسکن ہے۔

2023/24 میں العلا مومنٹس پانچ بڑے تہوار اور متعدد مارکی ایونٹس پیش کریں گے جن میں طنطورہ میں موسمِ سرما، العلا تندرستی میلہ، العلا آرٹس فیسٹیول، العلا اسکائیز فیسٹیول، ایزیمت، رچرڈ مل العلا ڈیزرٹ پولو، خادم الحرمین الشریفین اینڈیورنس کپ، العلا کیمل کپ اور قدیم مملکتوں کے فیسٹیول شامل ہیں۔

یہ میلے اور تہوار فن، ثقافت، موسیقی، فطرت، تندرستی، گھڑ سواری، خوراک اور فلکیات کے تجربات کا انتخاب پیش کرتے ہیں - یہ سبھی العلا کی ثقافت، تاریخ اور میراث اور ان تہذیبوں کی خوشی مناتے ہیں جو اس قدیم شہر کو کبھی اپنا گھر کہتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں