اسرائیلی حملے قیدیوں سے متعلق کسی بھی سطح کے مذاکرات میں رکاوٹ ہیں: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی قابض فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست قیدیوں کی نئی تعداد کا اعلان کرنے کے بعد حماس نے کہا ہے کہ وہ فی الحال قیدیوں کے تبادلے سے متعلق کسی بھی سطح پر کوئی بات چیت نہیں کرے گی۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے منگل کے روز العربیہ/الحدث کو دیے گئے بیان میں وضاحت کی کہ اسرائیل کے پرتشدد حملے اوربمباری قیدیوں کے بارے میں کسی بھی قسم کے مذاکرات میں رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیلی حملے رکنے تک مذاکرات نہیں ہوسکتے کیونکہ اسرائیلی بمباری مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی زمینی حملے سے قیدیوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی دراندازی

حماس کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی دھڑوں کے جنگجوؤں کے پاس اسرائیل کے خلاف جنگ میں ثابت قدم رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

انہوں نے میدان میں ہونے والی پیشرفت اور جاری محاذ آرائی کی طرف توجہ دلاتےہوئے کہا کہ "غزہ میں تازہ اسرائیلی دراندازی بارہا اور ناکام رہی ہے"۔

انہوں نے وضاحت کی کہ متعدد اسرائیلی گاڑیاں شمالی غزہ کے نرم علاقوں میں گھس گئیں اور پھر پسپا ہوگئیں۔

گذشتہ ہفتے سےاسرائیل نے غزہ کی پٹی میں اپنی زمینی کارروائیوں میں توسیع کا اعلان کیا تھا، لیکن اس نے ایک اقدام میں "ہٹ اینڈ رن" کی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے صرف آہستہ آہستہ پیشرفت کی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی سست روی پرمبنی اسرائیلی پیش قدمی کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ان میں ایک وجہ حماس کی عسکری طاقت کا اندازہ لگانا اور غزہ میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں اور غیرملکیوں کی جانیں بچانا ہے۔

اس کی وجہ ایک طرف نبض کو جانچنا، حماس کی عسکری طاقت کا اندازہ لگانا اور دوسری طرف قیدیوں کی زندگی بچانے کے لیے احتیاط برتنا بھی ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں