عراق و شام میں امریکی اڈوں اور تنصیبات پر حملوں میں اضافہ، 13 دنوں میں 23 ڈرون حملے

حملے کے دوران امریکی کی ہلاکت ہارٹ اٹیک سے ہوئی ، 21 اہلکار زخمی ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی امریکہ کی طرف سے سات اکتوبر کے بعد ایک بار کھلی اور غیر معمولی حمایت و فوجی مدد کے بعد عراق و شام میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو 13 دنوں میں 23 مختلف مواقع پر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ 'ان حملوں میں ڈرون طیارے اور راکٹ استعمال کیے گئے۔ تاہم امریکی فوج حکام نے اپنے مضبوط دفاعی نظام کے باعث ان حملوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ '

مجموعی طور پر 17 اکتوبر سے 30اکتوبر کے دوران 21 امریکی فوجی اہلکاروں کے زخمی ہونے کا بھی بتایا گیا ہے۔ البتہ ایک سول کنٹریکٹر کی ہلاکت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ڈرون حملوں کے دوران امریکی فوجی اڈے پر غلط الارم بجنے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک سے ہلاک ہوا ہے۔

امریکہ نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملے ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپوں کی طرف سے کیے گئے ہیں اور ان حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔

امریکی پینٹا گون کے مطابق پچھلے ہفتے ان حملوں کے بعد امریکی جنگی طیاروں نے بھی شام میں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

امریکہ کی طرف سے اپنے ادوں پر حملوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ حملے عراق میں 14 مختلف اوقات میں کیے گئے۔ جبکہ شام میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوشش 9 مرتبہ کی گئی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حملے ڈرون طیاروں اور راکٹوں کے ذریعے یعنی دونوں طریقوں سے کیے گئے۔ ادھر شام کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ شام سے ہونے والے ان حملوں میں جمعہ کے روز سے قدرے اضافہ ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں